المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: " لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بَعَثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ وَجَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، فَكَرِهَ أَنْ يُصِيبَ مِنْهُمْ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلًا بَيْنَهُ وَبَيْنَكُمْ، فَلَا أَرَبَ لِي فِي هَدِيَّتِكُمْ، فَخَرَصَ النَّخْلَ فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ وَقُمْتُ عَلَيْهِ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبَنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ هَذَا الَّذِي تَعْرِضُونَ عَلَيْنَا، وَتَعْمَلُونَ بِهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ، وَكَانَتْ خَيْبَرُ لِمَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَمْ يَشْرَكْهُمْ فِيهَا أَحَدٌ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ، وَلَمْ يَشْهَدْهَا أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، وَلَمْ يَأْذَنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَحَدٍ تَخَلَّفَ عَنْ مَخْرَجِهِ إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ فِي شُهُودِ خَيْبَرَ "عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح کیا تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کے ساتھ (پیداوار) تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ ان کے لیے کھانے کے تحفے بھیجنے لگے، انہوں نے ان سے کچھ لینا پسند نہ کیا اور فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کرنے کے لیے بھیجا ہے، مجھے تمہارے تحفے کی کوئی خواہش نہیں۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، جب تخمینہ مکمل کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اختیار دیا اور فرمایا: اگر چاہو تو میں تمہارا حصہ ضامن بن کر تمہیں دلا دوں اور خود اس (پیداوار) کی نگرانی کروں، اور اگر چاہو تو تم ہمارا حصہ ضامن بن کر ہمیں دلا دو اور خود اس کی نگرانی کرو۔ انہوں نے یہی پسند کیا کہ وہ ضامن بنیں اور خود نگرانی کریں، اور کہا: اے ابن رواحہ! یہ جو تم ہمیں پیش کرتے ہو اور جس (انصاف) پر عمل کرتے ہو، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور وہ دونوں صرف حق ہی سے قائم رہتے ہیں۔ اور خیبر ان لوگوں کے لیے مخصوص تھا جو حدیبیہ میں حاضر تھے، اس میں ان کے ساتھ کوئی اور شریک نہ ہوا، اور ان میں سے کوئی اس سے پیچھے نہ رہا، اور ان کے سوا کوئی اور اس میں حاضر نہ ہوا، اور رسول اللہ ﷺ نے کسی ایسے شخص کو خیبر میں شرکت کی اجازت نہ دی جو حدیبیہ کی طرف روانگی سے پیچھے رہ گیا تھا۔