المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنَ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُقَاضَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّ لَنَا نِصْفَ الثَّمَرِ، وَلَكُمْ نِصْفَهُ، وَتَكْفُونَا الْعَمَلَ حَتَّى إِذَا طَابَ ثَمَرُهُمْ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ ثَمَرَنَا قَدْ طَابَ فَابْعَثْ خَارِصًا يَخْرُصُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا طَافَ فِي نَخْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، قَالَ: وَاللهِ مَا أَعْلَمُ مِنْ خَلْقِ اللهِ أَحَدًا أَعْظَمَ فِرْيَةً عَلَى اللهِ وَأَعْدَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، وَاللهِ مَا خَلَقَ اللهُ أَحَدًا أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْكُمْ، وَاللهِ مَا يَحْمِلُنِي ذَلِكَ أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْرَ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ وَأَنَا أَعْلَمُهَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَصَهَا جَمِيعًا الَّذِي لَهُمْ، وَالَّذِي لِيَهُودَ ثَمَانِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، فَقَالَ الْيَهُودُ: خَيَّرْتَنَا، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: إِنْ شِئْتُمْ، فَأَعْطُونَا أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ وَتَخْرُجُونَ عَنَّا، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَبِهَذَا يَغْلِبُونَكُمْعبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ کی یہود خیبر سے اس صلح کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے آدھا پھل اور تمہارے لیے آدھا، اور تم کام کی ذمہ داری اٹھاؤ گے، یہاں تک کہ جب ان کا پھل پک گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہمارا پھل پک چکا ہے، آپ کوئی تخمینہ لگانے والا بھیج دیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان تخمینہ لگائے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ جب انہوں نے ان کی کھجوروں میں گھوم کر دیکھا تو فرمایا: اللہ کی قسم! میں اللہ کی مخلوق میں تم سے بڑھ کر اللہ پر جھوٹ باندھنے والا اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن کسی کو نہیں جانتا، اللہ کی قسم! اللہ نے تم سے زیادہ مجھے ناپسندیدہ کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، (لیکن) اللہ کی قسم! یہ بات مجھے ہرگز اس پر آمادہ نہیں کرے گی کہ میں تم پر ذرہ برابر بھی زیادتی کروں جبکہ مجھے اس کا علم ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے مجموعی طور پر (پیداوار کا) تخمینہ لگایا، جو یہود کا حصہ تھا وہ اسّی ہزار وسق تھا۔ یہود نے کہا: آپ نے ہمیں اختیار دیا ہے (کہ اپنا حصہ لے لیں یا حوالے کر دیں)؟ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو ہمیں چالیس ہزار وسق دے دو اور (اپنا حصہ لے کر) ہم سے الگ ہو جاؤ۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر بولے: اسی (انصاف) سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور اسی سے تم ان (مسلمانوں) پر غالب آؤ گے۔