حدیث نمبر: 14014
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: «اكْشِفُوا عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَاسْعَوْا فِي الطَّوَافِ» ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ وَقُوَّتَهُمْ، وَكَانَ يَكِيدُهُمْ بِكُلِّ مَا اسْتَطَاعَ، فَانْكَفَأَ أَهْلُ مَكَّةَ الرِّجَالُ مِنْهُمْ وَالنِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَرْتَجِزُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ، يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... أَنَا الشَّهِيدُ أَنَّهُ رَسُولُهُ
قَدْ نَزَّلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ ... فِي صُحُفٍ يُتْلَى عَلَى رَسُولِهِ
فَالْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ... كَمَا ضَرَبْنَاكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
وَتَغَيَّبَ رِجَالٌ مِنْ أَشْرَافِ الْمُشْرِكِينَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْظًا، وَحَنَقًا، ونفاسة وَحَسَدًا، خَرَجُوا إِلَى نَوَاحِي مَكَّةَ فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُسُكَهُ فَأَقَامَ ثَلَاثًا
ترجمہ

ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا: ”کندھے کھلے رکھو اور طواف میں تیز چلو (رمل کرو)“ تاکہ مشرکین ان کی قوت اور مضبوطی دیکھ لیں، اور آپ ﷺ ہر ممکن طریقے سے ان کے خلاف تدبیر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ اہلِ مکہ، مرد، عورتیں اور بچے سب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھنے کے لیے امڈ آئے، اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تلوار حمائل کیے رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے یہ رجز پڑھ رہے تھے: ”اے کافروں کی اولاد! راستہ چھوڑ دو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ رحمٰن نے اپنی نازل کردہ کتاب میں، ان صحیفوں میں جو اس کے رسول پر پڑھے جاتے ہیں، یہ بات نازل فرمائی ہے۔ آج ہم تمہیں اس کی تاویل پر اسی طرح ماریں گے جیسے تمہیں اس کی تنزیل پر مارا تھا، ایسی ضرب لگا کر جو سروں کو ان کی جگہ سے جدا کر دے، اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے۔“ مشرکین کے بعض سردار غصے، رنج، حسد اور جلن کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو دیکھنا پسند نہ کرتے ہوئے چھپ گئے اور مکہ کے اطراف میں نکل گئے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مناسک پورے کیے اور تین دن قیام فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14014
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 174، حدیث 417