المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ» يَعْنِي: الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا، وَيُكْنَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ تُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدَعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصُ، فَقَالَ فِي ذَا كَذَا وَكَذَا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، قَالَ: فَأَنَا إِلَى حَزْرِ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو ان پر یہ شرط رکھی کہ زمین اور ہر پیلی اور سفید چیز (یعنی سونا چاندی) آپ کی ہوگی، اہلِ خیبر نے عرض کیا: ہم زمین کو بہتر جانتے ہیں، چنانچہ آپ ﷺ نے وہ زمین انہیں اس شرط پر دے دی کہ وہ اس پر کام کریں گے اور پیداوار کا نصف ہمارا اور نصف ان کا ہوگا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں اسی شرط پر (زمین) دی۔ چنانچہ جب کھجوریں کاٹنے کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے ان کی طرف ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، اور اسی کو اہلِ مدینہ ’خرص‘ کہتے ہیں۔ انہوں نے (تخمینے میں) اتنی اتنی مقدار بتائی تو انہوں (اہلِ خیبر) نے کہا: اے ابن رواحہ! آپ نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں اپنے تخمینے پر قائم ہوں، اور تمہیں یہ اختیار دیتا ہوں کہ جو مقدار میں نے بتائی ہے اسی کے مطابق (اپنا حصہ) لے لو۔ انہوں نے کہا: یہ حق بات ہے، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم اسی پر راضی ہیں جو آپ نے کہا۔