حدیث نمبر: 14021
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي فَتْحِ خَيْبَرَ، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ لِيُقَاسِمَ الْيَهُودَ ثَمَرَهَا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ جَعَلُوا يُهْدُونَ لَهُ مِنَ الطَّعَامِ، وَيُكَلِّمُونَهُ، وَجَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَقَالُوا: هَذَا لَكَ وَتَخَفَّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ إِنَّكُمْ وَاللهِ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، إِنَّمَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدْلًا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ، فَلَا أَرَبَ لِي فِي دُنْيَاكُمْ، وَلَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، وَإِنَّمَا عَرَضْتُمْ عَلَيَّ السُّحْتَ، وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، فَخَرَصَ النَّخْلَ، فَلَمَّا أَقَامَ الْخَرْصَ خَيَّرَهُمْ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُ لَكُمْ نَصِيبَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ضَمِنْتُمْ لَنَا نَصِيبِنَا وَقُمْتُمْ عَلَيْهِ، فَاخْتَارُوا أَنْ يَضْمَنُوا وَيَقُومُوا عَلَيْهِ، وَقَالُوا: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ هَذَا الَّذِي تَعْمَلُونَ بِهِ، بِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، وَإِنَّمَا يَقُومَانِ بِالْحَقِّ
ترجمہ

ابن شہاب رحمہ اللہ فتحِ خیبر کے بیان میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کے ساتھ پھل تقسیم کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ ان کے لیے کھانے کے تحفے بھیجنے لگے اور ان سے (نرمی سے) بات کرنے لگے، اور اپنی عورتوں کے زیورات میں سے کچھ زیورات جمع کر کے ان کے سامنے رکھے اور کہا: یہ آپ کے لیے ہے، ہم پر نرمی کریں اور درگزر فرمائیں۔ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے یہود کی جماعت! اللہ کی قسم تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ ناپسند ہو، مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہارے اور اپنے درمیان انصاف کرنے کے لیے بھیجا ہے، مجھے تمہاری دنیا کی کوئی خواہش نہیں، اور میں تم پر ہرگز زیادتی نہیں کروں گا، اور تم نے جو مجھے پیش کیا ہے وہ حرام رشوت ہے، اور ہم اسے نہیں کھاتے۔ چنانچہ انہوں نے کھجوروں کا تخمینہ لگایا، جب تخمینہ مکمل کر لیا تو انہیں اختیار دیا اور فرمایا: اگر چاہو تو میں تمہارا حصہ ضامن بن کر دلا دوں، اور اگر چاہو تو تم ہمارا حصہ ضامن بن کر ہمیں دلا دو اور خود نگرانی کرو۔ انہوں نے یہی پسند کیا کہ وہ ضامن بنیں اور خود نگرانی کریں، اور کہا: اے ابن رواحہ! یہ جو تم عمل کرتے ہو، اسی سے آسمان و زمین قائم ہیں، اور وہ دونوں صرف حق ہی سے قائم رہتے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14021
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 178، حدیث 424