حدیث نمبر: 14023
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: " لَمَّا أَتَاهُمُ ابْنُ رَوَاحَةَ جَمَعُوا لَهُ حُلِيًّا مِنْ حُلِيِّ نِسَائِهِمْ، فَأَهْدَوْهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ إِنَّكُمْ لَأَبْغَضُ خَلْقِ اللهِ إِلَيَّ وَمَا ذَلِكَ بِحَامِلِي أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، أَمَّا مَا عَرَضْتُمْ عَلَيْنَا مِنْ هَذِهِ الرِّشْوَةِ، فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا، ثُمَّ خَرَصَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهَا أَوْ يَأْخُذَهَا هُوَ، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، فَأَخَذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ "
ترجمہ

زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ان (یہود) کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی عورتوں کے زیورات میں سے کچھ زیورات جمع کر کے انہیں تحفے میں پیش کیے، انہوں نے فرمایا: اے یہود کی جماعت! تم مجھے اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسند ہو، اور یہ بات مجھے تم پر زیادتی کرنے پر آمادہ نہیں کرے گی، رہی یہ جو تم نے ہمیں رشوت پیش کی ہے، تو یہ حرام ہے اور ہم اسے نہیں کھاتے۔ پھر انہوں نے ان پر تخمینہ لگایا، پھر انہیں اختیار دیا کہ وہ خود لے لیں یا وہ (ابن رواحہ) خود لے لیں۔ انہوں نے کہا: اسی (انصاف) سے آسمان و زمین قائم ہیں، چنانچہ انہوں نے اسی تخمینے پر (پھل) لے لیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14023
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 178، حدیث 426