❮
❯
حدیث نمبر: 14026
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي، وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ، وَكَانَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، قَالَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرٍ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ، ثُمَّ عَقَرَهَا، ثُمَّ قَاتَلَ الْقَوْمَ حَتَّى قُتِلَ، فَلَمَّا قُتِلَ جَعْفَرٌ أَخَذَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ الرَّايَةَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ بِهَا، وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ، فَجَعَلَ يَسْتَنْزِلُ نَفْسَهُ، وَيَتَرَدَّدُ بَعْضَ التَّرَدُّدِ، ثُمَّ قَالَ:
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... لَتَنْزِلِنَّ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ
مَالِي أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهُ ... إِنْ أَجْلَبَ النَّاسُ وَشَدُّوا الرَّنَّهُ
لَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ ... هَلْ أَنْتِ إِلَّا نُطْفَةٌ فِي شَنَّهُ
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ:
يَا نَفْسُ إِنْ لَمْ تُقْتَلِي تَمُوتِي ... هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صَلَيْتِ
وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ ... إِنْ تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيتِ
يَعْنِي: صَاحِبَيْهِ زَيْدًا وَجَعْفَرًا، ثُمَّ نَزَلَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَتَاهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ بِعَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ، فَقَالَ: اشْدُدْ بِهَذَا صُلْبَكَ، فَإِنَّكَ قَدْ لَقِيتَ أَيَّامَكَ هَذِهِ مَا قَدْ لَقِيتَ، فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِهِ فَانْتَهَسَ مِنْهُ نَهْسَةً، ثُمَّ سَمِعَ الْحَطْمَةَ فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ، فَقَالَ: وَأَنْتَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ أَخَذَ سَيْفَهُ فَتَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ ثَابِتُ بْنُ أَقْرَمَ أَحَدُ بَلْعَجْلَانَ، وَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اصْطَلِحُوا عَلَى رَجُلٍ مِنْكُمْ، قَالُوا: أَنْتَ، قَالَ: مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، فَاصْطَلَحَ النَّاسُ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَلَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ دَافَعَ الْقَوْمَ ثُمَّ انْحَازَ حَتَّى انْصَرَفَ بِالنَّاسِ، وَلَمَّا أُصِيبُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ صَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْأَنْصَارِ وَظَنُّوا أَنَّهُ كَانَ فِي عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ بَعْضُ مَا يَكْرَهُونَ، قَالَ: «ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ بِهَا حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا» ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رُفِعُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ عَلَى سُرَرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَأَيْتُ فِي سَرِيرِ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَوَاحَةَ ازْوِرَارًا عَنْ سَرِيرِ صَاحِبَيْهِ، فَقُلْتُ: بِمَ هَذَا، فَقِيلَ لِي: مَضَيَا، وَتَرَدَّدَ عَبْدُ اللهِ بَعْضَ التَّرَدُّدِ وَمَضَى "
ترجمہ

یحییٰ بن عباد رحمہ اللہ اپنے والد عباد بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے رضاعی والد نے، جو بنو مرہ بن عوف میں سے تھے اور غزوہ موتہ میں شریک تھے، بیان کیا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! گویا میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جب وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے، پھر اسے کونچیں کاٹ دیں، پھر لوگوں سے لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھال لیا، پھر اسے لے کر آگے بڑھے، وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے، تو اپنے آپ کو اترنے پر آمادہ کرنے لگے اور کچھ ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے رہے، پھر کہا: ”اے نفس! میں نے تجھے قسم دی ہے کہ تو ضرور اترے گا، خوشی سے اترے گا یا زبردستی اتارا جائے گا۔ کیا بات ہے کہ میں تجھے جنت سے کراہت کرتے دیکھ رہا ہوں، جبکہ لوگ صف بستہ ہو کر شور مچا رہے ہیں۔ کتنے ہی عرصے سے تو مطمئن رہی ہے، تو تو بس ایک پرانے مشکیزے میں پانی کا ایک قطرہ ہے۔“ اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: ”اے نفس! اگر تو قتل نہ ہوئی تو بہرحال مر ہی جائے گی، یہ موت کی تلخی ہے جسے تو پہلے ہی چکھ چکی ہے۔ اور جس چیز کی تو نے آرزو کی تھی وہ تجھے دے دی گئی ہے، اگر تو نے ان دونوں جیسا کیا تو ہدایت پا جائے گی۔“ یعنی اپنے دونوں ساتھیوں زید اور جعفر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ پھر وہ اترے، جب اترے تو ان کے چچازاد بھائی نے انہیں ہڈی پر لگا گوشت لا کر دیا اور کہا: اس سے اپنی کمر مضبوط کر لو، کیونکہ تم نے آج کے دنوں میں جو کچھ برداشت کیا ہے سو کیا ہے۔ انہوں نے اسے اس کے ہاتھ سے لیا اور ایک نوالہ لیا، پھر لوگوں کی طرف سے تلواروں کے ٹکرانے کی آواز سنی تو کہا: اور تو دنیا ہی میں ہے! پھر اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا، پھر اپنی تلوار پکڑی اور آگے بڑھ کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ پھر جھنڈا ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ، جو بنو عجلان میں سے تھے، نے سنبھالا اور کہا: اے لوگو! اپنے میں سے کسی ایک پر اتفاق کر لو۔ لوگوں نے کہا: تم ہی۔ انہوں نے کہا: میں یہ نہیں کروں گا۔ چنانچہ لوگوں نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر اتفاق کر لیا۔ جب انہوں نے جھنڈا سنبھالا تو دشمن کو روکے رکھا، پھر پیچھے ہٹے یہاں تک کہ لوگوں کو لے کر واپس چلے گئے۔ جب یہ نقصان پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا اور اس کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے، پھر جعفر رضی اللہ عنہ نے اسے سنبھالا اور اس کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔“ پھر نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ انصار کے چہرے متغیر ہو گئے اور انہیں گمان ہوا کہ شاید عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ کے دل میں کوئی ناپسندیدہ بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے سنبھالا اور اس کے ساتھ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔“ پھر فرمایا: ”مجھے خواب میں جنت میں سونے کے تختوں پر ان کا مقام دکھایا گیا، تو میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن رواحہ کا تخت ان کے دونوں ساتھیوں کے تخت سے کچھ ہٹا ہوا تھا، میں نے پوچھا: یہ کیوں؟ تو مجھے بتایا گیا: وہ دونوں آگے بڑھ گئے، جبکہ عبداللہ نے کچھ ہچکچاہٹ دکھائی، پھر آگے بڑھ گئے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14026
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 182، حدیث 429