حدیث نمبر: 14028
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُثِّلُوا لِي فِي الْجَنَّةِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَلَى سَرِيرٍ» فَرَأَيْتُ زَيْدًا وَابنَ رَوَاحَةَ أَعْنَاقُهُمَا صُدُودًا وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَهُوَ مُسْتَقِيمٌ لَيْسَ فِيهِ صُدُودٌ، قَالَ: فَسَأَلْتُ أَوْ قَالَ قِيلَ لِي: إِنَّهُمَا حِينَ غَشِيَهُمَا الْمَوْتُ كَأَنَّمَا أَعْرَضَا أَوْ كَأَنَّمَا صَدَّا بِوُجُوهِهِمَا، وَأَمَّا جَعْفَرٌ فَإِنَّهُ لَمْ يَفْعَلْ. قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ ابْنُ رَوَاحَةَ:
[البحر الرجز]
أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهْ ... بِطَاعَةٍ مِنْكِ لَتُكْرَهِنَّهْ
فَطَالَمَا قَدْ كُنْتِ مُطْمَئِنَّهُ
قَالَ جَعْفَرٌ: مَا أَطْيَبَ رِيحَ الْجَنَّةِ
ترجمہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ تینوں جنت میں ایک موتی کے خیمے میں دکھائے گئے، ہر ایک تخت پر (بیٹھا) تھا۔“ میں نے زید اور ابن رواحہ کی گردنیں (تخت سے) ہٹی ہوئی دیکھیں، جبکہ جعفر بالکل سیدھے تھے، ان میں کوئی جھکاؤ نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: (نبی کریم ﷺ نے) پوچھا، یا کہا: مجھے بتایا گیا کہ ان دونوں کو جب موت نے آ گھیرا تو گویا انہوں نے (پہلے لمحے) اپنے چہرے موڑ لیے تھے، جبکہ جعفر نے ایسا نہیں کیا۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہی وہ موقع ہے جہاں ابن رواحہ نے کہا تھا: ”اے نفس! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ضرور (میدان میں) اترے گا، خواہ ناپسندیدگی کے ساتھ ہی اطاعت کیوں نہ کرے، تو بہت عرصے سے مطمئن بیٹھا رہا ہے۔“ اور جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: جنت کی خوشبو کیا ہی خوب ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14028
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 183، حدیث 431