❮
❯
حدیث نمبر: 14012
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ مَشْي عَبْدَ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... الْيَوْمَ نَضْرِبُكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ
ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ
قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَرَمِ اللهِ تَقُولُ الشَّعْرَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلِّ عَنْهُ يَا عُمَرُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ السُّيُوفِ»
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے چلنے لگے اور یہ اشعار پڑھنے لگے: ”اے کافروں کی اولاد! اس کا راستہ چھوڑ دو، آج ہم تمہیں اس کی تاویل پر ماریں گے، ایسی مار جو سر کو اس کے آرام گاہ سے الگ کر دے، اور دوست کو اس کے دوست سے بھلا دے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں تم شعر کہتے ہو؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! اسے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ اشعار ان پر تلواروں کی مار سے بھی زیادہ سخت ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14012
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 173، حدیث 415