المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومن أخباره باب: ان کے بعض واقعات
حدیث نمبر: 14016
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ، وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ: «فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَحْزُرُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يُخَيِّرُونَ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَوْ يَدْفَعُوهَا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَيُفَرَّقَ»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کا معاملہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کی طرف بھیجا کرتے تھے، وہ کھجوریں پکنے کے وقت، کھائے جانے سے پہلے، ان کا تخمینہ لگاتے، پھر یہود کو اختیار دیا جاتا کہ وہ اسی تخمینے پر (پھل) خود لے لیں یا اسی تخمینے پر (نصف حصہ مسلمانوں کے) حوالے کر دیں۔ نبی کریم ﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اس لیے دیا تھا تاکہ پھل کھائے اور تقسیم ہونے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب ہو سکے۔