حدیث نمبر: 14029
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى مُؤْتَةَ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ فَجَعْفَرُ بنُ أَبِي طَالِبٍ أَمِيرُهُمْ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ أَمِيرُهُمْ، فَانْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا ابْنَ أَبِي سَبْرَةَ الْغَسَّانِيَّ بِمُؤْتَةَ، وَبِهَا جُمُوعٌ مِنْ نَصَارَى الْعَرَبِ، وَالرُّومِ، وَبِهَا تَنُوخُ، وَبَهْرَامُ، فَأَغْلَقَ ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ دُونَ الْمُسْلِمِينَ الْحِصْنَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ خَرَجُوا فَالْتَقَوْا عَلَى زَرْعٍ أَخْضَرَ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا، وَأَخَذَ اللِّوَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ جَعْفَرٌ فَقُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهُ ابْنُ رَوَاحَةَ فَقُتِلَ، ثُمَّ اصْطَلَحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ أُمَرَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ، وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ، وَبَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُمَادَى الْأُولَى»
ترجمہ

ابن شہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے مؤتہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان پر زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، اگر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب ان کے امیر ہوں گے، اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ان کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے یہاں تک کہ مؤتہ میں ابن ابی سبرہ غسانی سے جا ملے، وہاں عیسائی عربوں اور رومیوں کی جماعتیں تھیں، اور وہاں تنوخ اور بہراء (قبائل بھی) تھے۔ ابن ابی سبرہ نے مسلمانوں کے مقابلے میں تین دن قلعہ بند رہ کر دروازے بند کر لیے، پھر وہ (دشمن) نکلے اور ایک ہری کھیتی کے میدان میں مقابلہ ہوا، سخت لڑائی ہوئی۔ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا تو شہید ہو گئے، پھر جعفر نے سنبھالا تو شہید ہو گئے، پھر ابن رواحہ نے سنبھالا تو شہید ہو گئے۔ پھر مسلمان رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ امراء کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (کو امیر بنانے) پر متفق ہو گئے، چنانچہ اللہ نے دشمن کو شکست دی اور مسلمانوں کو غالب کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جمادی الاول میں بھیجا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14029
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 184، حدیث 432