حدیث نمبر: 14018
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِسْطَاسَ، عَنْ جُبَيْرٍ، قَالَ: " فَتَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ جَمْعًا لَهُ حَرْثُهَا وَنَخْلُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ رَقِيقٌ، فَصَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ عَلَى أَنَّهُمْ يَكْفُونَا الْعَمَلَ، وَلَكُمْ شَطْرُ التَّمْرِ، عَلَى أَنِّي أُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَذَلِكَ حِينَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ رَوَاحَةَ يَخْرِصُ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا خَيَّرَهُمْ أَخَذَتْ يَهُودُ التَّمْرَ، فَلَمْ يَزَلْ خَيْبَرُ بِيَدِ الْيَهُودِ عَلَى صُلْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَأَخْرَجَهُمْ، فَقَالَتْ يَهُودُ: أَلَمْ يُصَالِحْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَلَى كَذَا وَكَذَا؟، قَالَ: بَلَى، عَلَى أَنَّهُ يُقِرُّكُمْ مَا بَدَا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهَذَا حِينَ بَدَا لِي أَنْ أُخْرِجَكُمْ، فَأَخْرَجَهُمْ، ثُمَّ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي افْتَتَحُوهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعْطِ مِنْهَا أَحَدًا لَمْ يَحْضُرِ افْتِتَاحَهَا، قَالَ: فَأهْلُهَا الْآنَ الْمُسْلِمُونَ لَيْسَ فِيهَا يَهُودُ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ وَتَفَرَّقَ فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ "
ترجمہ

جبیر بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اسے (خیبر کو) فتح کیا، اور یہ (زمین) آپ ہی کی جمع کردہ تھی، اس کی کھیتی اور کھجوریں (بھی)، اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس (وہاں کے لیے) کوئی غلام نہ تھے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے یہود سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کام کی ذمہ داری اٹھائیں گے اور کھجور کا نصف حصہ ان کا ہوگا، اس شرط پر کہ میں تمہیں اس وقت تک رہنے دوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کو مناسب معلوم ہو۔ اسی موقع پر نبی کریم ﷺ نے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تاکہ وہ ان پر تخمینہ لگائیں، جب انہوں نے یہود کو اختیار دیا تو یہود نے کھجوریں (خود) لے لیں۔ خیبر ہمیشہ نبی کریم ﷺ کی اسی صلح پر یہود کے پاس رہا یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے انہیں نکال دیا۔ یہود نے کہا: کیا نبی کریم ﷺ نے ہم سے فلاں فلاں شرط پر صلح نہیں کی تھی؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیوں نہیں، اس شرط پر کہ جب تک اللہ اور اس کے رسول کو مناسب معلوم ہو تمہیں رہنے دیا جائے گا، سو اب مجھے مناسب معلوم ہوا ہے کہ تمہیں نکال دوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں نکال دیا، پھر اسے ان مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اسے فتح کیا تھا، اور جو اس کی فتح کے وقت موجود نہ تھا اسے کچھ نہ دیا۔ (راوی کہتے ہیں:) اب اس کے مالک مسلمان ہیں، اس میں کوئی یہودی نہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اسی لیے دیا تھا تاکہ پھل کھائے اور تقسیم ہونے سے پہلے زکوٰۃ کا حساب ہو سکے، اور وہ اسی پر عمل کرتے رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14018
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 176، حدیث 421