حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سَارَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْكُوفَةِ حِينَ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَاتَ، فَلَمْ نَرَ نَشِيجًا أَكْثَرَ مِنْ يَوْمَئِذٍ، وَإِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ وَلَمْ نَأْلُ عَنْ خَيْرِنَا ذَا فُوقٍ، فَبَايَعْنَاهُ فَبَايِعُوا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو مدینہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، پس اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”امابعد! امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، اور ہم نے اس دن سے زیادہ سسکیاں لیتے ہوئے کسی دن کو نہیں دیکھا۔ ہم اصحاب محمد ﷺ نے جمع ہو کر اپنے میں سے بہترین اور صحیح شخص کو چننے میں کوئی کمی نہ کی، اور اس کی بیعت کی، سو تم بھی امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " مَا يَسُرُّنِي أَنِّي رَمَيْتُ عُثْمَانَ بِسَهْمٍ أَخْطَأَهُ - أَحْسِبُهُ قَالَ: أُرِيدُ قَتْلَهُ - وَأَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات ہرگز پسند نہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف تیر چلایا ہو جو ان سے خطا ہو گیا ہو - راوی کہتے ہیں: غالباً یہ کہا کہ میرا ارادہ انہیں قتل کرنے کا تھا - اور بدلے میں مجھے احد پہاڑ کے برابر سونا مل جائے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ يَنْعَى عُمَرَ، وَاسْتِخْلَافَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَانَا ذَا فَوْقُ»
ترجمہ
عبداللہ بن سنان بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان کرنے آئے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم نے اپنے میں سے سب سے افضل اور بہترین شخص کو چننے میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: لَمَّا بَايَعَ عَبْدُ اللهِ لِعُثْمَانَ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا أَلَوْنَا عَنْ أَعْلَاهَا ذَا فَوْقُ»
ترجمہ
عبداللہ بن سنان بیان کرتے ہیں: جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تو فرمایا: ”ہم نے اپنے میں سے سب سے افضل اور بہترین شخص کو چننے میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرِو الْبَجَلِيُّ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَمَّرْنَا خَيْرَ مَنْ بَقِيَ وَلَمْ نَأْلُ»
ترجمہ
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے سب سے بہتر شخص کو امیر بنایا، اور اس میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَمَّرْنَا خَيْرَ مَنْ بَقِيَ وَلَمْ نَأْلُ»
ترجمہ
جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم نے جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے سب سے بہتر شخص کو امیر بنایا، اور اس میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْعَى عُمَرَ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ مَرَّةً - أَوْ مَرَّتَيْنِ - ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يَدْخُلُ فِيهِ، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ فَانْهَدَمَ الْحِصْنُ، ثُمَّ نَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمْ نَأْلُ عَنْ خَيْرِهَا فَوْقُ "
ترجمہ
ولید بن قیس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے، اور وہ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دینا چاہتے تھے، تو انہیں رونا آ گیا، ایک یا دو بار، پھر فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، اس میں داخل ہونے والا داخل ہوتا تھا اور اس سے نکلتا نہیں تھا، سو اب وہ قلعہ منہدم ہو گیا۔“ پھر ان کی وفات کی خبر دی، پھر فرمایا: ”اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور ہم نے سب سے بہتر شخص کو چننے میں کوئی کمی نہیں کی۔“
حَدَّثَنَا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ ذَهَابُ أَهْلِهِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُفْتَقَرُ إِلَى مَا عِنْدَهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَطُّعَ، وَالتَّعَمُّقَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ يَنْبُذُونَهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”علم حاصل کرنے کو لازم پکڑو اس سے پہلے کہ وہ اٹھا لیا جائے، اور اس کا اٹھایا جانا اہلِ علم کا اٹھ جانا ہے۔ علم کو لازم پکڑو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کب اپنے پاس موجود علم کی ضرورت پڑ جائے۔ علم کو لازم پکڑو، اور تکلف اور گہرائی میں پڑنے سے بچو، اور پرانے طریقے کو لازم پکڑو، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اللہ کی کتاب پڑھیں گے مگر اسے اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیں گے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يَحْتَلُّ إِلَيْهِ» ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَنْكُوسًا؟ قَالَ: «ذَلِكَ مَنْكُوسُ الْقَلْبِ» ، فَقَالَ: وَأُتِيَ بِمُصْحَفٍ قَدْ زُيِّنَ، وَذُهِّبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُيِّنَ بِهِ الْمُصْحَفُ تِلَاوَتُهُ فِي الْحَقِّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے لوگو! علم سیکھو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کب اس کی ضرورت پڑ جائے۔“ پس ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو قرآن الٹا پڑھتا ہے؟ فرمایا: ”یہ الٹے دل والا ہے۔“ پھر ان کے پاس ایک مصحف لایا گیا جسے مزین اور سونے سے آراستہ کیا گیا تھا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مصحف کو سب سے بہتر جس چیز سے آراستہ کیا جا سکتا ہے وہ حق کے مطابق اس کی تلاوت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي أَهْلِ الشَّقَاءِ فَامْحُنِي، وَاثْبُتْنِي فِي أَهْلِ السَّعَادَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! اگر تو نے مجھے بدبختوں میں لکھا ہے تو مجھے مٹا دے، اور مجھے نیک بختوں میں ثابت کر دے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، «كَانَ رُبَّمَا يَتَمَثَّلُ بِالْبَيْتِ مِنَ الشَّعْرِ مِمَّا كَانَ فِي وقائعِ الْعَرَبِ»
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کبھی کبھار عربوں کی لڑائیوں کے بارے میں کہے گئے اشعار میں سے کسی شعر سے تمثیل دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: «مَا مِنْ كَلَامٍ أَتَكَلَّمُ بِهِ لِذِي سُلْطَانٍ أَدْرَأُ عَنِّي مِنْهُ ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّوْطِ إِلَّا كُنْتُ مُتَكَلِّمًا بِهِ»
ترجمہ
حارث بن سوید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی ایسی بات نہیں کہ میں کسی صاحبِ اقتدار سے وہ بات کہوں جو کوڑوں کی دو ضربوں کو مجھ سے دور کرنے والی ہو، مگر میں وہ بات کہہ ہی دیتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَيَسْمَعُهُ مَنْ لَا يَبْلُغُ عَقْلُهُ فَهْمَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَيَكُونُ عَلَيْهِ فِتْنَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آدمی کوئی بات بیان کرتا ہے تو اسے وہ شخص سن لیتا ہے جس کی عقل اس بات کو سمجھنے تک نہیں پہنچتی، تو وہ بات اس کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " كَانَ قَرْيَتَانِ إِحْدَاهُمَا صَالِحَةٌ، وَالْأُخْرَى ظَالِمَةٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْقَرْيَةِ الظَّالِمَةِ يُرِيدُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ، فَأَتَاهُ الْمَوْتُ حَيْثُ شَاءَ اللهُ فَاخْتَصَمَ فِيهِ الْمَلَكُ، وَالشَّيْطَانُ، فَقَالَ الشَّيْطَانُ: وَاللهِ مَا عَصَانِي قَطُّ، فَقَالَ الْمَلَكُ: إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ يُرِيدُ التَّوْبَةَ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا أَنْ يُنْظَرَ إِلَى أَيِّهِمَا أَقْرَبُ فَوَجَدُوهُ أَقْرَبُ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ بِشِبْرٍ فَغُفِرَ لَهُ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ: «قَرَّبَ اللهُ إِلَيْهِ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو بستیاں تھیں، ایک نیک اور دوسری ظالم (گناہ گار)۔ ظالم بستی سے ایک آدمی نیک بستی کا ارادہ کر کے نکلا، تو جہاں اللہ نے چاہا وہیں اسے موت آ گئی، تو فرشتے اور شیطان اس کے بارے میں جھگڑنے لگے۔ شیطان نے کہا: اللہ کی قسم، اس نے کبھی میری نافرمانی نہیں کی۔ فرشتے نے کہا: یہ تو توبہ کے ارادے سے نکلا تھا۔ پھر ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ کیا گیا کہ دیکھا جائے وہ کس بستی کے زیادہ قریب ہے، تو اسے نیک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا، چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ معمر کہتے ہیں: میں نے کسی کو یہ کہتے سنا: ”اللہ نے نیک بستی کو اس کے قریب کر دیا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حلال کو حرام کہنے والا اسی طرح ہے جیسے حرام کو حلال کہنے والا۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ ابْنِهِ الْقَاسِمِ، فَقَالَ: غَدَا إِلَى الْكُنَاسَةِ يَطْلُبُ الضِّبَابَ، فَقَالَ: أَتَأْكُلُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَمَنْ حَرَّمَهُ؟ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ»
ترجمہ
ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبدالرحمٰن بن عبداللہ (بن مسعود) رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا، تو ان کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ان سے ان کے بیٹے قاسم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ صبح سویرے کناسہ (کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ) کی طرف گیا ہے، ضب (گوہ) کی تلاش میں۔ اس نے کہا: کیا تم اسے کھاتے ہو؟ عبدالرحمٰن نے کہا: اسے کس نے حرام کیا ہے؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”حلال کو حرام کہنے والا اسی طرح ہے جیسے حرام کو حلال کہنے والا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا أَتْرُكُ بَعْدِي شَيْئًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِبِلٍ أَسْقِيهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اپنے پیچھے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑنا چاہتا جو مجھے اس اونٹ سے زیادہ محبوب ہو جسے میں پانی پلانے کے لیے وقف کر دوں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَائِلٌ كُلَّ ذِي رَعِيَّةٍ فِيمَا اسْتَرْعَاهُ، أَقَامَ أَمْرَ اللهِ فِيهِمْ أَمْ أَضَاعَهُ؟ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لِيُسْأَلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل ہر اس شخص سے پوچھے گا جسے اس نے کسی رعیت کا ذمہ دار بنایا، کہ کیا اس نے ان میں اللہ کا حکم قائم کیا یا اسے ضائع کر دیا؟ یہاں تک کہ آدمی سے اس کے گھر والوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ الْفُرَاتَ، فَقَالُوا: إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَنْبَثِقَ عَلَيْنَا فَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ مَنْ يُسَكِّرُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا نُسَكِّرُهُ فَوَاللهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ الْتَمَسُوا فِيهِ عَلَى طَسْتٍ مِنْ مَاءٍ مَا وَجَدْتُمُوهُ، لَيَرْجِعَنَّ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ، وَيَكُونُ فِيهِ الْمَاءُ، وَالْمُسْلِمُونَ بِالشَّامِ»
ترجمہ
قاسم بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرات (نہر) کی شکایت کی گئی، لوگوں نے کہا: ہمیں خدشہ ہے کہ یہ ہمارے اوپر پھٹ نہ پڑے، اگر آپ اس کی طرف کوئی ایسا شخص بھیج دیں جو اس کا پشتہ باندھ دے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس کا پشتہ نہیں باندھیں گے، اللہ کی قسم! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر وہ پانی کا ایک طشت بھی تلاش کریں تو نہ پائیں گے، ہر پانی اپنے اصل منبع کی طرف لوٹ جائے گا، اور پانی وہاں ہو گا جہاں مسلمان شام میں ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: مُدَّ الْفُرَاتُ عَلَى عَهْدِ عَبْدِ اللهِ فَكَرِهَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَكْرَهُوا فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُلْتَمَسُ فِيهِ طَسْتٌ مِنْ مَاءٍ، وَلَا يُوجَدُ ذَلِكَ حِينَ يَرْجِعُ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ، وَيَكُونُ بَقِيَّةُ الْمَاءِ، وَالْمُؤْمِنُونَ بِالشَّامِ»
ترجمہ
قاسم بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دور میں فرات (نہر) میں طغیانی آئی تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ناپسند مت کرو، کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پانی کا ایک طشت تلاش کیا جائے گا مگر نہیں ملے گا، اس وقت جب ہر پانی اپنے اصل منبع کی طرف لوٹ جائے گا، اور باقی ماندہ پانی وہاں ہو گا جہاں مومن شام میں ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا كَانَتْ سَنَةُ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَإِنْ هَلَكُوا فَبِالْحَرِيِّ، وَإِنْ يَنْجُوا فَعَسَى، وَإِذَا كَانَتْ سَنَةُ سَبْعِينَ رَأَيْتُمْ مَا تُنْكِرُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب پینتیسواں سال ہو گا تو ایک بہت بڑا معاملہ پیش آئے گا، اگر وہ ہلاک ہو گئے تو یہ بعید نہیں، اور اگر بچ گئے تو امید ہے، اور جب ستر واں سال ہو گا تو تم ایسی چیزیں دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَأَنِّي بِالتُّرْكِ قَدْ أَتَتْكُمْ عَلَى بَرَاذِينَ مُحَزَّمَةِ الْآذَانِ حَتَّى تَرْبِطَهَا بِشَطِّ الْفُرَاتِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”گویا میں ترکوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایسے ٹٹو (گھوڑوں) پر سوار ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں جن کے کان بندھے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ وہ انہیں فرات کے کنارے باندھ دیں گے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَفِيهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایمان میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے، اور وہ اس سے صرف اللہ کے لیے اور اللہ ہی کی خاطر محبت رکھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، أَوْ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، - شَكَّ مَعْمَرٌ - قَالَ: رَأَى ابْنُ مَسْعُودٍ، فِي عُنُقِ امْرَأَتِهِ خَرَزًا قَدْ تَعَلَّقَتْهُ مِنَ الْحُمْرَةِ فَقَطَعَهُ، وَقَالَ: «إِنَّ آلَ عَبْدِ اللهِ لَأَغْنِيَاءُ عَنِ الشِّرْكِ»
ترجمہ
زیاد بن ابی مریم، یا ابوعبیدہ - راوی معمر کو شک ہے - بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کی گردن میں لال رنگ کے موتی دیکھے جو اس نے لٹکا رکھے تھے، تو انہوں نے اسے کاٹ دیا اور فرمایا: ”آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہیں۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرِو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، دَخَلَ عَلَى بَعْضِ أُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ فَرَأَى فِي عُنُقِهَا تَمِيمَةً، فَلَوى السَّيْرَ حَتَّى قَطَعَهُ، وَقَالَ: «أَفِي بُيُوتِي الشِّرْكُ؟» ثُمَّ قَالَ: «التَّمَائِمُ، وَالرُّقَى، وَالتُّوَلَةُ شِرْكٌ، أَوْ طَرَفٌ مِنَ الشِّرْكِ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی ایک ام ولد کے پاس گئے تو اس کی گردن میں تعویذ دیکھا، تو انہوں نے وہ تسمہ موڑ کر توڑ دیا، اور فرمایا: ”کیا میرے گھروں میں شرک ہے؟“ پھر فرمایا: ”تعویذ، جھاڑ پھونک اور توَلہ شرک ہیں، یا شرک کی ایک قسم ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: رَأَى فِي عُنُقِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ سَيْرًا فِيهِ تمائمُ فَمَدَّهُ مَدًّا شَدِيدًا حَتَّى قَطَعَ السَّيْرَ، وَقَالَ: «إِنَّ آلَ عَبْدِ اللهِ لَأَغْنِيَاءُ عَنِ الشِّرْكِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ التُّوَلَةَ، وَالتَّمَائِمَ، وَالرُّقَى لَشِرْكٌ» ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: إِنَّ أَحَدَنَا لَيَشْتَكِي رَأْسُهَا فَيَسْتَرْقِي فَإِذَا اسْتَرْقَتْ ظُنَّ أَنَّ ذَلِكَ قَدْ نَفَعَهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَخُشُّ فِي رَأْسِهَا فَإِذَا اسْتَرْقَتْ خَنَسَ فَإِذَا لَمْ تَسْتَرْقِ نَخَسَ، فَلَوْ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ تَدْعُو بِمَاءٍ فَتَنْضَحُهُ فِي رَأْسِهَا وَوَجْهِهَا، ثُمَّ تَقُولُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ثُمَّ تَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ نَفَعَهَا ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ "
ترجمہ
ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر کی ایک عورت کی گردن میں تعویذ والا تسمہ دیکھا، تو اسے زور سے کھینچ کر توڑ دیا، اور فرمایا: ”آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہیں۔“ پھر فرمایا: ”بے شک توَلہ، تعویذ اور جھاڑ پھونک شرک ہیں۔“ اس پر ایک عورت نے کہا: ہم میں سے کسی کے سر میں تکلیف ہوتی ہے تو وہ دم کرواتی ہے، پھر جب دم کروا لیتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس نے فائدہ دیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ کر اس کے سر میں کچوکے لگاتا ہے، پھر جب وہ دم کروا لیتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر دم نہ کروائے تو وہ چبھوتا رہتا ہے۔ سو اگر تم میں سے کوئی عورت پانی منگوا کر اسے اپنے سر اور چہرے پر چھڑکے، پھر کہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، پھر پڑھے: قل ھو اللہ احد، اور قل اعوذ برب الفلق، اور قل اعوذ برب الناس، تو ان شاء اللہ یہ اسے فائدہ دے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ لِيُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَالْعَظْمِ، وَمِنْ تَحْتِ سَبْعِينَ حُلَّةٍ كَمَا يُرَى الشَّرَابُ الْأَحْمَرُ فِي الزُّجَاجَةِ الْبَيْضَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حور عین میں سے کسی عورت کی پنڈلی کا گودا گوشت اور ہڈی کے پیچھے سے، اور ستر جوڑوں کے نیچے سے اس طرح نظر آئے گا جیسے سفید شیشے میں سرخ شراب نظر آتی ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَوْتُ الْفَجْأَةِ تَخْفِيفٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ، وَأَسَفٌ عَلَى الْكَافِرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اچانک موت مومن کے لیے تخفیف ہے، اور کافر کے لیے حسرت و افسوس ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَخْرُجُ نَفْسُهُ رَشْحًا، وَإِنَّ الْكَافِرَ يَخْرُجُ نَفْسُهُ فِي شِدْقِهِ كَمَا يَخْرُجُ نَفَسُ الْحِمَارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مومن کی جان پسینے کی طرح آسانی سے نکلتی ہے، اور کافر کی جان اس کے جبڑے سے اس طرح نکلتی ہے جیسے گدھے کا سانس نکلتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ، قَرْيَةً، قَالَ: «اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ، وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ، وَمَا أَضَلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ، وَمَا أَذْرَتْ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا»
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! آسمانوں کے رب اور جو کچھ انہوں نے سایہ کیا، اور شیطانوں کے رب اور جو کچھ انہوں نے گمراہ کیا، اور ہواؤں کے رب اور جو کچھ وہ اڑا لے جاتی ہیں، میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی مانگتا ہوں، اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی اور اس میں موجود برائی سے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يُقِلُّ الصَّوْمَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ، وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ أَحَبُّ إِلَيَّ»
ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روزہ کم رکھتے تھے، جب ان سے اس کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: ”میں جب روزہ رکھتا ہوں تو قرآن پڑھنے سے کمزور پڑ جاتا ہوں، اور قرآن کی تلاوت مجھے زیادہ محبوب ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَكَادُ أَنْ يَصُومَ، فَقَالَ: «إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الصَّلَاةِ، وَالصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ» ، فَإِنْ صَامَ صَامَ ثَلَاثًا مِنَ الشَّهْرِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روزہ کم ہی رکھتے تھے، فرماتے: ”میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز پڑھنے سے کمزور پڑ جاتا ہوں، اور نماز مجھے روزے سے زیادہ محبوب ہے۔“ اگر روزہ رکھتے تو مہینے میں تین دن روزہ رکھتے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يُقِلُّ الصِّيَامَ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ تُقِلُّ الصَّوْمَ، قَالَ: «إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الصَّلَاةِ، وَالصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روزہ کم رکھتے تھے، ہم نے ان سے کہا: آپ روزہ کم رکھتے ہیں، تو فرمایا: ”میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز پڑھنے سے کمزور پڑ جاتا ہوں، اور نماز مجھے روزے سے زیادہ محبوب ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «الصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصَّوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز مجھے روزے سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور وہ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُقِلُّ الصَّوْمَ، فَقَالَ: «أَجَلْ، إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الصَّلَاةِ، وَالصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصَّوْمِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: آپ روزہ کم رکھتے ہیں، تو فرمایا: ”ہاں، میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز پڑھنے سے کمزور پڑ جاتا ہوں، اور نماز مجھے روزے سے زیادہ محبوب ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنِي شَيْخٌ، مِنْ بَجِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، لَا يُصَلِّي الضُّحَى، وَيُصَلِّي مَا بَيْنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ مَعَ عُقْبَةٍ مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلَةٍ»
ترجمہ
بجیلہ قبیلے کے ایک شخص بیان کرتے ہیں: میں نے شعبی کو یہ کہتے سنا: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے، اور ظہر اور عصر کے درمیان نفل پڑھتے، ساتھ ہی رات کے ایک طویل حصے میں بھی نماز پڑھتے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ صَائِمًا قَطُّ يَوْمَيْنِ إِلَّا رَمَضَانَ، قَالَ: مَا أَدْرِي مَا شَأْنُ ذَيْنِكَ الْيَوْمَيْنِ
ترجمہ
ابوعبیدہ کی والدہ بیان کرتی ہیں: میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کبھی رمضان کے علاوہ دو دن روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم ان دو دنوں کا کیا معاملہ تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: كَانَ لَا يَكَادُ أَنْ يَصُومَ، قَالَ: «إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الصَّلَاةِ، وَالصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ، فَإِنْ صَامَ ثَلَاثًا مِنَ الشَّهْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روزہ کم ہی رکھتے تھے، فرماتے: ”میں جب روزہ رکھتا ہوں تو نماز پڑھنے سے کمزور پڑ جاتا ہوں، اور نماز مجھے روزے سے زیادہ محبوب ہے۔“ اور اگر روزہ رکھتے تو مہینے میں تین دن روزہ رکھتے۔
…