المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8812
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ، وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْعَى عُمَرَ، فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ مَرَّةً - أَوْ مَرَّتَيْنِ - ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يَدْخُلُ فِيهِ، وَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ فَانْهَدَمَ الْحِصْنُ، ثُمَّ نَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَلَمْ نَأْلُ عَنْ خَيْرِهَا فَوْقُ "ترجمہ
ولید بن قیس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے، اور وہ عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دینا چاہتے تھے، تو انہیں رونا آ گیا، ایک یا دو بار، پھر فرمایا: ”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، اس میں داخل ہونے والا داخل ہوتا تھا اور اس سے نکلتا نہیں تھا، سو اب وہ قلعہ منہدم ہو گیا۔“ پھر ان کی وفات کی خبر دی، پھر فرمایا: ”اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور ہم نے سب سے بہتر شخص کو چننے میں کوئی کمی نہیں کی۔“