المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8821
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ ابْنِهِ الْقَاسِمِ، فَقَالَ: غَدَا إِلَى الْكُنَاسَةِ يَطْلُبُ الضِّبَابَ، فَقَالَ: أَتَأْكُلُهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَمَنْ حَرَّمَهُ؟ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «إِنَّ مُحَرِّمَ الْحَلَالِ كَمُسْتَحِلِّ الْحَرَامِ»ترجمہ
ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عبدالرحمٰن بن عبداللہ (بن مسعود) رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا، تو ان کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ان سے ان کے بیٹے قاسم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ صبح سویرے کناسہ (کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ) کی طرف گیا ہے، ضب (گوہ) کی تلاش میں۔ اس نے کہا: کیا تم اسے کھاتے ہو؟ عبدالرحمٰن نے کہا: اسے کس نے حرام کیا ہے؟ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”حلال کو حرام کہنے والا اسی طرح ہے جیسے حرام کو حلال کہنے والا۔“