المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8824
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ الْفُرَاتَ، فَقَالُوا: إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَنْبَثِقَ عَلَيْنَا فَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْهِ مَنْ يُسَكِّرُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا نُسَكِّرُهُ فَوَاللهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَوِ الْتَمَسُوا فِيهِ عَلَى طَسْتٍ مِنْ مَاءٍ مَا وَجَدْتُمُوهُ، لَيَرْجِعَنَّ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ، وَيَكُونُ فِيهِ الْمَاءُ، وَالْمُسْلِمُونَ بِالشَّامِ»ترجمہ
قاسم بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرات (نہر) کی شکایت کی گئی، لوگوں نے کہا: ہمیں خدشہ ہے کہ یہ ہمارے اوپر پھٹ نہ پڑے، اگر آپ اس کی طرف کوئی ایسا شخص بھیج دیں جو اس کا پشتہ باندھ دے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس کا پشتہ نہیں باندھیں گے، اللہ کی قسم! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اگر وہ پانی کا ایک طشت بھی تلاش کریں تو نہ پائیں گے، ہر پانی اپنے اصل منبع کی طرف لوٹ جائے گا، اور پانی وہاں ہو گا جہاں مسلمان شام میں ہوں گے۔“