المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8804
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، سَارَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْكُوفَةِ حِينَ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَاتَ، فَلَمْ نَرَ نَشِيجًا أَكْثَرَ مِنْ يَوْمَئِذٍ، وَإِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ وَلَمْ نَأْلُ عَنْ خَيْرِنَا ذَا فُوقٍ، فَبَايَعْنَاهُ فَبَايِعُوا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو مدینہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، پس اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”امابعد! امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، اور ہم نے اس دن سے زیادہ سسکیاں لیتے ہوئے کسی دن کو نہیں دیکھا۔ ہم اصحاب محمد ﷺ نے جمع ہو کر اپنے میں سے بہترین اور صحیح شخص کو چننے میں کوئی کمی نہ کی، اور اس کی بیعت کی، سو تم بھی امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرو۔“