حدیث نمبر: 8814
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يَحْتَلُّ إِلَيْهِ» ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَنْكُوسًا؟ قَالَ: «ذَلِكَ مَنْكُوسُ الْقَلْبِ» ، فَقَالَ: وَأُتِيَ بِمُصْحَفٍ قَدْ زُيِّنَ، وَذُهِّبَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُيِّنَ بِهِ الْمُصْحَفُ تِلَاوَتُهُ فِي الْحَقِّ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اے لوگو! علم سیکھو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اسے کب اس کی ضرورت پڑ جائے۔“ پس ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو قرآن الٹا پڑھتا ہے؟ فرمایا: ”یہ الٹے دل والا ہے۔“ پھر ان کے پاس ایک مصحف لایا گیا جسے مزین اور سونے سے آراستہ کیا گیا تھا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مصحف کو سب سے بہتر جس چیز سے آراستہ کیا جا سکتا ہے وہ حق کے مطابق اس کی تلاوت ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8814
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 170، حدیث 8846