المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: رَأَى فِي عُنُقِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ سَيْرًا فِيهِ تمائمُ فَمَدَّهُ مَدًّا شَدِيدًا حَتَّى قَطَعَ السَّيْرَ، وَقَالَ: «إِنَّ آلَ عَبْدِ اللهِ لَأَغْنِيَاءُ عَنِ الشِّرْكِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ التُّوَلَةَ، وَالتَّمَائِمَ، وَالرُّقَى لَشِرْكٌ» ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: إِنَّ أَحَدَنَا لَيَشْتَكِي رَأْسُهَا فَيَسْتَرْقِي فَإِذَا اسْتَرْقَتْ ظُنَّ أَنَّ ذَلِكَ قَدْ نَفَعَهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَخُشُّ فِي رَأْسِهَا فَإِذَا اسْتَرْقَتْ خَنَسَ فَإِذَا لَمْ تَسْتَرْقِ نَخَسَ، فَلَوْ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ تَدْعُو بِمَاءٍ فَتَنْضَحُهُ فِي رَأْسِهَا وَوَجْهِهَا، ثُمَّ تَقُولُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ثُمَّ تَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ نَفَعَهَا ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ "ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر کی ایک عورت کی گردن میں تعویذ والا تسمہ دیکھا، تو اسے زور سے کھینچ کر توڑ دیا، اور فرمایا: ”آلِ عبداللہ شرک سے بے نیاز ہیں۔“ پھر فرمایا: ”بے شک توَلہ، تعویذ اور جھاڑ پھونک شرک ہیں۔“ اس پر ایک عورت نے کہا: ہم میں سے کسی کے سر میں تکلیف ہوتی ہے تو وہ دم کرواتی ہے، پھر جب دم کروا لیتی ہے تو اسے لگتا ہے کہ اس نے فائدہ دیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے کسی کے پاس آ کر اس کے سر میں کچوکے لگاتا ہے، پھر جب وہ دم کروا لیتی ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے، اور اگر دم نہ کروائے تو وہ چبھوتا رہتا ہے۔ سو اگر تم میں سے کوئی عورت پانی منگوا کر اسے اپنے سر اور چہرے پر چھڑکے، پھر کہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، پھر پڑھے: قل ھو اللہ احد، اور قل اعوذ برب الفلق، اور قل اعوذ برب الناس، تو ان شاء اللہ یہ اسے فائدہ دے گا۔“