المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8825
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: مُدَّ الْفُرَاتُ عَلَى عَهْدِ عَبْدِ اللهِ فَكَرِهَ ذَلِكَ النَّاسُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَكْرَهُوا فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُلْتَمَسُ فِيهِ طَسْتٌ مِنْ مَاءٍ، وَلَا يُوجَدُ ذَلِكَ حِينَ يَرْجِعُ كُلُّ مَاءٍ إِلَى عُنْصُرِهِ، وَيَكُونُ بَقِيَّةُ الْمَاءِ، وَالْمُؤْمِنُونَ بِالشَّامِ»ترجمہ
قاسم بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دور میں فرات (نہر) میں طغیانی آئی تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ناپسند مت کرو، کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پانی کا ایک طشت تلاش کیا جائے گا مگر نہیں ملے گا، اس وقت جب ہر پانی اپنے اصل منبع کی طرف لوٹ جائے گا، اور باقی ماندہ پانی وہاں ہو گا جہاں مومن شام میں ہوں گے۔“