حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَأْمُرُنَا فِي السَّفَرِ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ نَوْمٍ وغائطٍ وَبَوْلٍ»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے آیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ ہمیں سفر میں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزے تین دن رات نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ نیند، پاخانہ اور پیشاب کی وجہ سے (مسح ہی کافی ہے)۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ» قُلْتُ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، «فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طَهُورٍ، ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا، وَلَا نَخْلَعُهُمَا مِنْ غَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ، وَلَا نَوْمٍ، وَلَا نَخْلَعُهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ» ، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «إِنَّ لِلْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ سَنَةً، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بھی علم کی طلب میں اپنے گھر سے نکلتا ہے، فرشتے اس کے عمل سے راضی ہو کر اس پر اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: میں آپ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں اس لشکر میں تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا، ”آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم طہارت کی حالت میں موزے پہنیں تو ان پر مسح کریں، سفر میں تین دن اور مقیم ہونے پر ایک رات، اور پاخانے، پیشاب یا نیند کی وجہ سے انہیں نہ اتاریں، صرف جنابت کی وجہ سے اتاریں۔“ انہوں نے فرمایا: اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”مغرب کی جانب توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر ایک کھلا دروازہ ہے، جو اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ. قَالَ: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ. قَالَ: قُلْتُ: حَكَّ فِي صَدْرِي مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ، وَكُنْتُ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَأَتَيْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنْ ذَلِكَ، هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، «كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ كُنَّا مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ» ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ يَذْكُرُ الْهَوَى؟ قَالَ: نَعَمْ، بَيْنَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ - أَوْ قَالَ جَوْهَرِيٍّ ابْنُ عُيَيْنَةَ شَكَّ - قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ بِنَحْوٍ مِنْ كَلَامِهِ، فَقَالَ: «مَهْ» . قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: «هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى قَالَ: «إِنَّ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ، عَرْضِهِ سَبْعِينَ سَنَةً، فَتَحَهُ اللهُ لِلتَّوْبَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ»
ترجمہ
…اور پیشاب کے بارے میں، اور میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھا، تو میں تمہارے پاس اسی بارے میں پوچھنے آیا ہوں، کیا تم نے اس بارے میں آپ ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ”آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔“ میں نے پوچھا: کیا تم نے انہیں محبت کے بارے میں کچھ فرماتے سنا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ہم آپ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی نے بلند آواز سے (راوی ابن عیینہ کو یہاں لفظ میں شک تھا) آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد! آپ ﷺ نے اسی کے انداز میں اسے جواب دیا اور فرمایا: ”ٹھہرو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ اس نے کہا: پھر آپ ﷺ ہم سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا: ”مغرب کی جانب ایک دروازہ ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، اللہ نے اسے توبہ کے لیے اسی دن کھولا تھا جس دن آسمان و زمین پیدا کیے، اور وہ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک سورج اسی جانب سے طلوع نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقَالَ: «كُنَّا إِذَا سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهُنَّ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَأَمَّا مِنْ غَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ فَلَا»
ترجمہ
زر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: ”جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے تو آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے کہ ہم تین راتیں اور ان کے دن اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، رہا پاخانہ یا پیشاب تو اس کی وجہ سے نہیں (اتارتے تھے)۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، وجَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، قَالَا: ثنا آدَمُ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
زر رحمہ اللہ سے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ قَالَ: «جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مقرر فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُوصِينَا إِذَا سَافَرْنَا أَوْ كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ بَوْلٍ وَنَوْمٍ وغائطٍ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ ہمیں وصیت فرماتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ پیشاب، نیند اور پاخانے کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، وَقَدْ حَكَّ فِي صَدْرِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ حَكَّ فِي صَدْرِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ شَيْءٌ قَالَ: نَعَمْ، «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ أَوْ نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ غَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ، وَلَا نَوْمٍ إِلَّا الْجَنَابَةَ» ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٌّ، أَيَا مُحَمَّدُ، أَيَا مُحَمَّدُ. فَقُلْنَا لَهُ: وَيْحَكَ اخْفِضْ - أَوِ اغْضُضْ - مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ مِنْ هَذَا، قَالَ: لَا وَاللهِ حَتَّى أَسْمَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «هَاؤُمُ» . قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: «ذَلِكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
زر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ موزوں پر مسح کے بارے میں میرے دل میں کچھ کھٹک تھی، میں نے عرض کیا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ کھٹک ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں، ”رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں، نہ پاخانے کی وجہ سے، نہ پیشاب کی وجہ سے اور نہ نیند کی وجہ سے، سوائے جنابت کے۔“ اور ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بلند آواز سے پکارنے لگا: اے محمد، اے محمد! ہم نے اس سے کہا: افسوس ہے تم پر، اپنی آواز نیچی کرو، تمہیں اس سے منع کیا جا چکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، یہاں تک کہ وہ مجھے سن لیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے، آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى. فَرَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ» ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ: بَوْلٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ نَوْمٍ، لَا مِنْ جَنَابَةٍ "، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ، إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَقُلْتُ: اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ أَنْ تَرْفَعَ صَوْتَكَ، فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا سَمِعَ مِنْهُ فَقَالَ: «هَاؤُمُ» . ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْهَوَى، عَنِ الْمَرْءِ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: «بَابُ التَّوْبَةِ مَفْتُوحٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، وَعَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ» ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ} [الأنعام: ١٥٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
ترجمہ
…اور میں ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: علم کی طلب۔ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ پھر ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مسافر پیشاب، پاخانے یا نیند کی وجہ سے تین دن رات موزوں پر مسح کرے، جنابت کی وجہ سے نہیں۔“ پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی نے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد، اے محمد، اے محمد! میں نے کہا: اپنی آواز نیچی کرو، تمہیں بلند آواز سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور فرمایا: ”ہاں سنو۔“ پھر اس نے محبت کے بارے میں پوچھا کہ آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا: ”توبہ کا دروازہ مغرب کی جانب کھلا ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اسی جانب سے طلوع نہ ہو جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”کیا یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آ جائیں…“ (آیت کے آخر تک) [سورۃ الانعام: 158]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَصْنَعُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَاكَ - أَوْ حَالَ - فِي نَفْسِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَهَلْ حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ كُنَّا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ: غَائِطٍ، وَبَوْلٍ، وَنَوْمٍ "، قُلْتُ: فَهَلْ حَفِظْتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرِ كَذَا وَكَذَا، فَنَادَاهُ رَجُلٌ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ أَعْرَابِيٍّ، جِلْفٍ جَافٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَهْ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَلَى نَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ، فَقَالَ: «هَاؤُمُ» . قَالَ: الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ. قَالَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، قَالَ فَمَا بَرِحَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى حَدَّثَنِي: «أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ» ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: ١٥٨]
ترجمہ
…ایک اجڈ اور سخت گو بدوی نے کہا: اے محمد، اے محمد! لوگوں نے اس سے کہا: خاموش رہو، تمہیں اس سے منع کیا جا چکا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ مجھ سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مغرب کی جانب توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہیں ہو گا یہاں تک کہ سورج اسی جانب سے طلوع ہو جائے۔“ اور یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ”جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں ظاہر ہوں گی، اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورۃ الانعام: 158]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقْيُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقُلْتُ: لَقِيتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ ثِنْتَيْ عَشَرَ غَزْوَةً. فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَأْمُرُنَا: إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهُنَّ مِنْ: بَوْلٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ نَوْمٍ، فَأَمَّا مِنْ جَنَابَةٍ فَلَا "، قَالَ: وَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، وَذَكَرَ بَابًا مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعِينَ عَامًا مَفْتُوحٌ لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلَهِ قَالَ، وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُنَادِيهِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِنَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
…اس نے کہا: اے محمد! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ابھی تک ان سے جا نہ ملا ہو؟ نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَيَّارٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَمَرَنَا أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ نَوْمٍ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب ہم سفر میں ہوتے تو ہمیں حکم دیتے کہ تین دن اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ پاخانہ، پیشاب یا نیند کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «لِلْمُسَافِرِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ، وَهُمْا طَاهِرَتَانِ أَنْ يَمْسَحَ عَلَيْهِمَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلَا يَنْزِعْهُمَا مِنْ غَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مسافر جب اپنے دونوں پاؤں طہارت کی حالت میں (موزوں میں) داخل کرے تو وہ ان پر تین دن رات مسح کرے، اور پاخانے یا پیشاب کی وجہ سے انہیں نہ اتارے، سوائے جنابت کے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ زِرٌّ: أَتَيْتُهُ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَّا تَضَعُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَفْعَلُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ امْرُؤٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَإِنَّهُ حَكَّ فِي صَدْرِي شَيْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِنْ كُنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ نمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهُنَّ، وَأَنْ لَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ نَوْمٍ» فقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ فِي الْهَوَى شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي غَزْوَةٍ - أَوْ عَمْرَةٍ - فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَدْ أَقْبَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ جَعَلَ يُنَادِي بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَقِيلَ: وَيْلَكَ، اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ أُمِرْتَ بِذَلِكَ قَالَ: وَاللهِ، لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْمَعَهُ، وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَافٌّ جِلْفٌ، فَلَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ صَوْتَهُ قَالَ: «هَاؤُمُ» . قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ: «ذَاكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، فَلَمْ يَبْرَحْ يُحَدِّثُنَا حَتَّى حَدَّثَنِي «أَنَّ قِبَلَ الْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ، مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعِينَ سَنَةً، لَا يَزَالُ مَفْتُوحًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ، فَإِذَا طَلَعَتْ مِنْ نَحْوِهِ» ، فَذَاكَ حِينَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: ١٥٨]
ترجمہ
…اور مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں پاخانے اور پیشاب کے بعد کچھ کھٹک محسوس ہوئی، تو مجھے کچھ بتائیے اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو اپنے موزوں پر تین راتیں اور ان کے دن مسح کریں، اور انہیں صرف جنابت کی وجہ سے اتاریں، پاخانے، پیشاب یا نیند کی وجہ سے نہیں۔“ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے انہیں محبت کے بارے میں کچھ فرماتے سنا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ — یا عمرے — میں تھے کہ ایک بدوی اپنی سواری پر آتا نظر آیا، یہاں تک کہ جب وہ لوگوں کے پچھلے حصے میں پہنچا تو بلند آواز سے پکارنے لگا: اے محمد، اے محمد! اس سے کہا گیا: افسوس ہے تجھ پر، اپنی آواز نیچی کر، تجھے اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھے سن لیں، اور وہ ایک اجڈ اور سخت گو بدوی تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس کی آواز سنی تو فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ابھی تک ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ ہم سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے بتایا: ”مغرب کی جانب توبہ کے لیے ایک کھلا دروازہ ہے، جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ ہمیشہ کھلا رہے گا یہاں تک کہ سورج اسی جانب سے طلوع ہو جائے، اور جب وہ اسی جانب سے طلوع ہو جائے گا“، تو یہی وہ وقت ہے جب ”کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورۃ الانعام: 158]
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقَالَ لِي: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ. قَالَ: مَا خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْتِهِ يَلْتَمِسُ عِلْمًا إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَفْعَلُ. قُلْتُ لَهُ: كُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَلَكِنَّهُ حَدَثَ فِي نَفْسِي مَسْحٌ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ نَوْمٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ»
وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَنَادَاهُ مِنْ أُخْرَيَاتِ النَّاسِ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَحْوًا مِنْ كَلَامِهِ: «هَاؤُمُ» فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يُحِبُّ قَوْمًا، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَنَادَاهُ مِنْ أُخْرَيَاتِ النَّاسِ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَحْوًا مِنْ كَلَامِهِ: «هَاؤُمُ» فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يُحِبُّ قَوْمًا، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، قَالَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
…(کوئی شخص) علم حاصل کرتا ہے مگر فرشتے اس کے عمل سے راضی ہو کر اس پر اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، مگر میرے دل میں موزوں پر مسح کے بارے میں ایک سوال پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ نیند، پاخانہ یا پیشاب کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔“
اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بدوی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے لوگوں کے پچھلے حصے سے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد! تو رسول اللہ ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ابھی تک ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک بدوی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے لوگوں کے پچھلے حصے سے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد! تو رسول اللہ ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ابھی تک ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ. قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ سَفَرًا، وَكُنَّا نَمْسَحُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَالْمُقِيمُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
…انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہم بات کیا کرتے تھے کہ فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔ پھر میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے تو تین دن رات مسح کرتے تھے، اور مقیم ایک دن رات مسح کرتا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقُمْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّكَ امْرُؤٌ قَدْ صَحِبْتَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَقَدْ حَاكَ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا مُسَافِرِينَ، أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ نَوْمٍ "
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہ باہر نکلے اور فرمایا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: آپ ایسے شخص ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے، اور مجھے پاخانے اور پیشاب کے بعد موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ کھٹک محسوس ہو رہی ہے، تو کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں کچھ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم مسافر ہوں تو تین دن اپنے موزے نہ اتاریں، البتہ پاخانہ، پیشاب یا نیند کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، وخَلَّادٌ الصَّفَّارُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَوَّابٍ الْحُصْرِيُّ، ثنا الْحَرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يُقَالُ لَهُ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ. قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَفْعَلُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «هَاؤُمُ» . فَقَالَ: الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمْ يَعْمَلْ مِنْ عَمَلِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
…اور میں نے ہمیں دیکھا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ایک بدوی نے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا اور کہا: اے محمد! نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے کہا: آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان کا سا عمل نہ کیا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے؟) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْبُرْجُلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُوصِينَا إِذَا سَافَرْنَا، أَوْ كُنَّا سَفَرًا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ نَوْمٍ وَبَوْلٍ وغائطٍ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں وصیت فرماتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ نیند، پیشاب اور پاخانے کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ الْجُوبَارِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْعِلْمِ، قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ» ، «وَعَنْ أَيِّ الْعِلْمِ تَسْأَلُ؟» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ: «نَعَمْ، يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ، وَثَلَاثٌ لِلْمُسَافِرِ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ثُمَّ أَحْدَثَ وُضُوءًا»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے آیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں آپ سے علم کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں، اور تم کس علم کے بارے میں پوچھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، موزوں پر مسح کے بارے میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مقیم کے لیے ایک دن رات، اور مسافر کے لیے پاخانے یا پیشاب کی وجہ سے تین دن، پھر وہ (نیا) وضو کرے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، إِذَا كُنَّا فِي سَفَرٍ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ بَوْلٍ، وَلَا نَوْمٍ، وَلَا غَائِطٍ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں، نہ پیشاب کی وجہ سے، نہ نیند کی وجہ سے اور نہ پاخانے کی وجہ سے، سوائے جنابت کے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سَلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَوْصِيُّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيِّ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَأْمُرُنَا إِذَا سَافَرْنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ولَيَالِيَهَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، يَأْمُرُنَا بِالْمَسْحِ عَلَيْهَا مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالنَّوْمِ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر کریں تو تین دن رات موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، اور ہمیں پاخانے، پیشاب اور نیند کے بعد ان پر مسح کرنے کا حکم دیتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ عَنِ الْمَسْحِ؟ فَقَالَ: «كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مَسَحْنَا عَلَيْهِمَا ثَلَاثًا فِي السَّفَرِ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو سفر میں ان (موزوں) پر تین دن مسح کرتے، سوائے جنابت کے، البتہ پاخانے، پیشاب اور نیند کی وجہ سے (مسح کرتے تھے)۔“
حَدَّثَنَا ورْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، حَدَّثَنِي زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ، قَالَ: حَكَّ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ. فَأَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ كُنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَالَ: «كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهُنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ بَوْلٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ نَوْمٍ»
ترجمہ
…پیشاب اور پاخانے کے بعد موزوں پر مسح (کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہوئی)۔ تو میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی۔ میں نے عرض کیا: مجھے کچھ بتائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو۔ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو تین راتیں اور ان کے دن اپنے موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ پیشاب، پاخانے یا نیند کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ. قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كُنَّا نَمْسَحُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ»
ترجمہ
…میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اور میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مسح کیا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ عُمَرُ بْنُ أَبَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن رات، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، قَالَ فِي الْمَسْحِ: «لِلْمُسَافِرِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسح کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے موزوں پر تین دن رات، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَأْمُرُنَا أَنْ نمْسَحَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ فِي السَّفَرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ» ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «مَنْ غَدَا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں صبح سویرے سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے گیا تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم سفر میں تین دن رات مسح کریں، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“ اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو صبح سویرے علم کی طلب میں نکلے، فرشتے اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِرْقِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَلَيْنَا، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا: «إِنَّ لِلتَّوْبَةِ بَابًا عَرْضُ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْهِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا» ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: ١٥٨]
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے بیان کرنے لگے: ”توبہ کا ایک دروازہ ہے جس کے دونوں پٹوں کے درمیان چوڑائی مشرق و مغرب کے درمیان کی مسافت جتنی ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں ظاہر ہوں گی، اس دن کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورۃ الانعام: 158]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قُلْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ: إِنَّهُ قَدْ حَاكَ فِي صَدْرِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ شَيْءٌ. فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِيهِ شَيْئًا؟ قَالَ: «نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَنْ لَا نَنْزِعَ الْخِفَافَ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ نَوْمٍ وغائطٍ وَبَوْلٍ»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ کھٹک محسوس ہو رہی ہے، کیا آپ نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، آپ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو تین دن موزے نہ اتاریں سوائے جنابت کے، البتہ نیند، پاخانہ اور پیشاب کی وجہ سے (نہ اتاریں)۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ، لَمْ نَنْزِعْ خِفَافَنَا ثَلَاثًا»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم جب سفر میں یا مسافر ہوتے تو تین دن اپنے موزے نہ اتارتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ جَعَلَ الْمَسْحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَالْمُقِيمُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کی مدت مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مقرر فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيَحْمُرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: مَا غَدَا بِكَ؟ قُلْتُ: طَلَبُ الْعِلْمِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ غَدَا يَطْلُبُ عِلْمًا كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَالْمَلَائِكَةُ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ» قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَتَحَ بَابًا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ لِلتَّوْبَةِ، مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْهِ سَبْعِينَ عَامًا لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ» قَالَ: قُلْتُ زِدْنِي رَحِمَكَ اللهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ، إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ، أَنْ يَا مُحَمَّدُ، قِفْ لِنَسْأَلَكَ ثَلَاثًا فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِنَحْوٍ مِنْ قَوْلِهِ: «هَاؤُمُ» ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَعْمَلْ بِعَمَلِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، فَمَا فَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِحَدِيثٍ مَا فَرِحُوا بِهِ قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: «كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ مَسَحْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ» وَاللَّفْظُ لِعَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ "
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں صبح سویرے کیا لایا؟ میں نے کہا: علم کی طلب۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو صبح سویرے علم کی طلب میں نکلے وہ واپسی تک اللہ کی راہ میں ہے، اور فرشتے علم کے طالب کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل نے مغرب کی جانب توبہ کے لیے ایک دروازہ کھولا ہے، جس کے دونوں پٹوں کے درمیان ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہیں ہو گا یہاں تک کہ سورج اسی جانب سے طلوع ہو جائے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے مزید بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بلند آواز والے بدوی نے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد، ٹھہریے، ہم آپ سے تین باتیں پوچھنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”ہاں سنو۔“ بدوی آیا اور کہنے لگا: آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان جیسا عمل نہ کیا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی حدیث سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے ہوئے۔ میں نے عرض کیا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے تو تین دن رات مسح کرتے، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْنَا صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقَالَ: أَزَائِرِينَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ زَارَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ خَاضَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَمَنْ عَادَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ خَاضَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ»
ترجمہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم ملاقات کے لیے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مومن بھائی کی زیارت کو جائے وہ واپسی تک جنت کے باغوں میں چلتا رہتا ہے، اور جو اپنے مومن بھائی کی عیادت کو جائے وہ واپسی تک جنت کے باغوں میں چلتا رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَلَى غُلَامٍ مِنَ الْيَهُودِ، وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ «أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قُبِضَ، فَوَلِيَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَالْمُسْلِمُونَ فَغَسَّلُوهُ، وَدَفَنُوهُ
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک یہودی لڑکے کے پاس تشریف لے گئے جو بیمار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ پھر وہ فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں نے اس کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری لی، اسے غسل دیا اور دفن کیا۔
…