حدیث نمبر: 7357
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ح وحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطْرَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيَحْمُرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: مَا غَدَا بِكَ؟ قُلْتُ: طَلَبُ الْعِلْمِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «مَنْ غَدَا يَطْلُبُ عِلْمًا كَانَ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَالْمَلَائِكَةُ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ» قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَتَحَ بَابًا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ لِلتَّوْبَةِ، مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْهِ سَبْعِينَ عَامًا لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ» قَالَ: قُلْتُ زِدْنِي رَحِمَكَ اللهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ، إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ، أَنْ يَا مُحَمَّدُ، قِفْ لِنَسْأَلَكَ ثَلَاثًا فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِنَحْوٍ مِنْ قَوْلِهِ: «هَاؤُمُ» ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَعْمَلْ بِعَمَلِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، فَمَا فَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِحَدِيثٍ مَا فَرِحُوا بِهِ قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ: «كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ مَسَحْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ» وَاللَّفْظُ لِعَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ "
ترجمہ

زر بن حبیش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں صبح سویرے کیا لایا؟ میں نے کہا: علم کی طلب۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو صبح سویرے علم کی طلب میں نکلے وہ واپسی تک اللہ کی راہ میں ہے، اور فرشتے علم کے طالب کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ عزوجل نے مغرب کی جانب توبہ کے لیے ایک دروازہ کھولا ہے، جس کے دونوں پٹوں کے درمیان ستر سال کی مسافت ہے، وہ بند نہیں ہو گا یہاں تک کہ سورج اسی جانب سے طلوع ہو جائے۔“ میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے مزید بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بلند آواز والے بدوی نے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد، ٹھہریے، ہم آپ سے تین باتیں پوچھنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”ہاں سنو۔“ بدوی آیا اور کہنے لگا: آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان جیسا عمل نہ کیا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی حدیث سے اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس حدیث سے ہوئے۔ میں نے عرض کیا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے تو تین دن رات مسح کرتے، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7357
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 66، حدیث 7388