حدیث نمبر: 7337
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ. قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ سَفَرًا، وَكُنَّا نَمْسَحُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ، وَالْمُقِيمُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ

…انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ہم بات کیا کرتے تھے کہ فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔ پھر میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتے تو تین دن رات مسح کرتے تھے، اور مقیم ایک دن رات مسح کرتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7337
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 62، حدیث 7368