المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن أبي النجود عن زر باب: عاصم بن ابی نجود کی زر بن حبیش سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى. فَرَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ» ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: " يَمْسَحُ الْمُسَافِرُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ: بَوْلٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ نَوْمٍ، لَا مِنْ جَنَابَةٍ "، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي سَفَرٍ، إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٌّ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ. فَقُلْتُ: اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ نُهِيتَ أَنْ تَرْفَعَ صَوْتَكَ، فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا سَمِعَ مِنْهُ فَقَالَ: «هَاؤُمُ» . ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْهَوَى، عَنِ الْمَرْءِ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ: «بَابُ التَّوْبَةِ مَفْتُوحٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، وَعَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ» ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ} [الأنعام: ١٥٨] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ…اور میں ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: علم کی طلب۔ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ چنانچہ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔“ پھر ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مسافر پیشاب، پاخانے یا نیند کی وجہ سے تین دن رات موزوں پر مسح کرے، جنابت کی وجہ سے نہیں۔“ پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ ایک بدوی نے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا: اے محمد، اے محمد، اے محمد! میں نے کہا: اپنی آواز نیچی کرو، تمہیں بلند آواز سے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا اور فرمایا: ”ہاں سنو۔“ پھر اس نے محبت کے بارے میں پوچھا کہ آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“ پھر انہوں نے ہم سے بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا: ”توبہ کا دروازہ مغرب کی جانب کھلا ہے، اس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک سورج اسی جانب سے طلوع نہ ہو جائے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”کیا یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آ جائیں…“ (آیت کے آخر تک) [سورۃ الانعام: 158]