المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن أبي النجود عن زر باب: عاصم بن ابی نجود کی زر بن حبیش سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَوَّابٍ الْحُصْرِيُّ، ثنا الْحَرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يُقَالُ لَهُ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ. قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَفْعَلُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي مَسِيرٍ، فَنَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «هَاؤُمُ» . فَقَالَ: الْمَرْءُ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمْ يَعْمَلْ مِنْ عَمَلِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں صبح سویرے نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کے پاس گیا جنہیں صفوان بن عسال کہا جاتا تھا، تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم طلب کرنے آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کے عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں؟ اور میں نے ہمیں دیکھا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ایک بدوی نے بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا اور کہا: اے محمد! نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے کہا: آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان کا سا عمل نہ کیا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے؟) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“