المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن أبي النجود عن زر باب: عاصم بن ابی نجود کی زر بن حبیش سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، وَقَدْ حَكَّ فِي صَدْرِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ حَكَّ فِي صَدْرِي مِنَ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ شَيْءٌ قَالَ: نَعَمْ، «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ أَوْ نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ مِنْ غَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ، وَلَا نَوْمٍ إِلَّا الْجَنَابَةَ» ، وَإِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَجَعَلَ يُنَادِيهِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٌّ، أَيَا مُحَمَّدُ، أَيَا مُحَمَّدُ. فَقُلْنَا لَهُ: وَيْحَكَ اخْفِضْ - أَوِ اغْضُضْ - مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ مِنْ هَذَا، قَالَ: لَا وَاللهِ حَتَّى أَسْمَعَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «هَاؤُمُ» . قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ قَالَ: «ذَلِكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»زر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ موزوں پر مسح کے بارے میں میرے دل میں کچھ کھٹک تھی، میں نے عرض کیا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں کچھ کھٹک ہو رہی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں، ”رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو تین دن رات اپنے موزے نہ اتاریں، نہ پاخانے کی وجہ سے، نہ پیشاب کی وجہ سے اور نہ نیند کی وجہ سے، سوائے جنابت کے۔“ اور ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بلند آواز سے پکارنے لگا: اے محمد، اے محمد! ہم نے اس سے کہا: افسوس ہے تم پر، اپنی آواز نیچی کرو، تمہیں اس سے منع کیا جا چکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، یہاں تک کہ وہ مجھے سن لیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں سنو۔“ اس نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ان سے جا نہ ملا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے، آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“