المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عاصم بن أبي النجود عن زر باب: عاصم بن ابی نجود کی زر بن حبیش سے روایات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: وَفَدْتُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى الْوِفَادَةِ لُقْيُ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: فَلَقِيتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقُلْتُ: لَقِيتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَغَزَوْتُ مَعَهُ ثِنْتَيْ عَشَرَ غَزْوَةً. فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، يَأْمُرُنَا: إِذَا كُنَّا سَفَرًا، أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ وَأَيَّامَهُنَّ مِنْ: بَوْلٍ، أَوْ غَائِطٍ، أَوْ نَوْمٍ، فَأَمَّا مِنْ جَنَابَةٍ فَلَا "، قَالَ: وَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ، وَذَكَرَ بَابًا مِنْ قِبَلِ مَغْرِبِ الشَّمْسِ مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعِينَ عَامًا مَفْتُوحٌ لِلتَّوْبَةِ، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلَهِ قَالَ، وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُنَادِيهِ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُحِبُّ الْقَوْمَ، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَأَجَابَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بِنَحْوٍ مِنْ صَوْتِهِ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»زر بن حبیش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفد بن کر گیا، اور مجھے وفد بن کر جانے پر آمادہ کرنے والی چیز صرف محمد ﷺ کے صحابہ سے ملاقات تھی۔ کہتے ہیں: تو میں سیدنا صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ عنہ سے ملا، تو میں نے پوچھا: کیا تم رسول اللہ ﷺ سے ملے ہو؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اور میں نے ان کے ساتھ بارہ غزوے کیے ہیں۔ میں نے کہا: مجھے موزوں پر مسح کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں یا مسافر ہوں تو اپنے موزوں پر تین راتیں اور ان کے دن پیشاب، پاخانے یا نیند کی وجہ سے مسح کریں، البتہ جنابت کی وجہ سے نہیں۔ کہتے ہیں: اور ایک رات رسول اللہ ﷺ نے مغرب کی جانب ایک دروازے کا ذکر کیا جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے، وہ توبہ کے لیے کھلا ہے، وہ بند نہیں ہو گا یہاں تک کہ سورج اسی جانب سے طلوع ہو جائے۔ کہتے ہیں: اور ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بلند آواز سے آپ ﷺ کو پکارا، اس نے کہا: اے محمد! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہو مگر ابھی تک ان سے جا نہ ملا ہو؟ نبی کریم ﷺ نے اسی کے انداز میں جواب دیا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“