حدیث نمبر: 7348
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ. قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًى بِمَا يَطْلُبُ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: «كُنَّا نَمْسَحُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ»
ترجمہ

…میں سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں علم کی طلب میں آیا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: فرشتے علم کے طالب کے لیے اس کی طلب سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اور میں نے ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مسافر کے لیے تین دن رات اور مقیم کے لیے ایک دن رات مسح کیا کرتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7348
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 64، حدیث 7379