کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی زر بن صفوان سے روایات
حَدَّثَنَا ورْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موزوں پر مسح کے بارے میں فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن رات، اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَتَحَ بَابًا مِنَ الْمَغْرِبِ: مِسَاحَتُهُ سَبْعُونَ خَرِيفًا لِلتَّوْبَةِ، لَمْ يُغْلِقْهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَمَا غَدَا رَجُلٌ يَلْتَمِسُ عِلْمًا إِلَّا أَفْرَشَتْهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًى بِمَا يَعْمَلُ " قَالَتِ الْعَرَبُ عِنْدَ ذَلِكَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَلَمْ يُعْطِ اللهُ عَبْدًا خَلَّةً وَاحِدَةً خَيْرٌ؟ قَالَ: «حُسْنُ خُلُقٍ» ثُمَّ قَالُوا لَهُ: أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: «هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الدَّاءَ أَنْزَلَ الدَّوَاءَ، أَوْ لَمْ يَنْزِلْ دَاءٌ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا دَاءً وَاحِدًا» . فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، فَمَا هُوَ؟ قَالَ: «الْهَرَمُ» ، ثُمَّ قَالَ: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ»
ترجمہ
…اور جو شخص بھی علم کی تلاش میں صبح سویرے نکلتا، فرشتے اس کے عمل سے راضی ہو کر اس پر اپنے پر بچھا دیتے۔ اس پر عرب نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، کیا اللہ نے بندے کو ایک ایسی خصلت نہیں دی جو (سب سے) بہتر ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“ پھر انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: کیا ہم دوا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جس نے بیماری اتاری اسی نے دوا بھی اتاری، اور کوئی بیماری ایسی نہیں اتری جس کی دوا نہ اتاری گئی ہو، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسافر تین دن اپنے موزوں پر مسح کرے، اور مقیم ایک دن رات۔“