کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السُّمَيْطِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1393
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 91، حدیث 1406
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ، وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، شِينَ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سوال کرے جبکہ اس کے پاس اتنا ہو جو اسے بے نیاز کر دے، تو قیامت کے دن اس کے چہرے پر داغ ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1394
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 91، حدیث 1407
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُهُ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدَكَ، فَمَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ فَيَمْضُغُهَا ثُمَّ يُتْبِعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ "
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی خزانہ (زکوٰۃ نہ دے کر) چھوڑ جائے، قیامت کے دن اس کے لیے ایک گنجا سانپ بنا دیا جائے گا جس کی دو کالی دھاریاں ہوں گی، وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور کہے گا: میں تیرا وہ خزانہ ہوں جو تو نے اپنے بعد چھوڑا تھا، وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا یہاں تک کہ اسے اپنا ہاتھ نگلوا دے گا، وہ اسے چبائے گا، پھر اس کے باقی جسم کو بھی اسی طرح نگل جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1395
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 91، حدیث 1408
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عُتْبَةَ أَبِي أُمَيَّةَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَالْخِمَارِ» يَعْنِي الْعِمَامَةَ
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے وضو کیا اور موزوں اور خمار پر مسح فرمایا، یعنی عمامے پر۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1396
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 91، حدیث 1409
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ، وَثِقَلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سفر مشقت اور بوجھ والا ہے، جب تم میں سے کوئی وتر پڑھ لے تو دو رکعتیں (نفل) پڑھ لے، اگر وہ (رات کو) بیدار ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ یہی اس کے لیے کافی ہوں گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1397
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 92، حدیث 1410
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ، فَقَالَ: «أَصْلِحُوا لَنَا مِنْهَا، فَأَصْلَحْنَا لَهُ، فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا، حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کی، پھر فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے کچھ درست کر دو“، چنانچہ ہم نے ان کے لیے (کچھ) تیار کیا، پھر میں اسے مدینہ پہنچنے تک اسی میں سے آپ ﷺ کو کھلاتا رہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1398
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 92، حدیث 1411
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ، بَعْدَ التَّسْلِيمِ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بھول (سہو) کے لیے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1399
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 92، حدیث 1412
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمَ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، وَعَدَنِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لَا يُحَاسَبُونَ مَعَ كُلِّ أَلْفِ، سَبْعِينَ أَلْفًا»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بیشک میرے رب عزوجل نے مجھ سے میری امت میں سے ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے جو بغیر حساب کے (جنت میں داخل ہوں گے)، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1400
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 92، حدیث 1413
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ، أَنَّ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً، كَادَ أَنْ يُصْرَعَ مِنْهَا، فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟، فَقُلْتُ: أَوَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، فَنَكَتَ بِعُودٍ مَعَهُ، فَقَالَ: «سَلْ» ، قَالَ الْيَهُودِيُّ: أيْنَ النَّاسُ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ، وَالسَّمَاوَاتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ» ، قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟، قَالَ: «فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تَحِيَّتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، قَالَ: «زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ» ، قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى أَثَرِهَا؟ قَالَ: «يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي يَأْكُلُ، مِنْ أَطْرَافِهَا» ، قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «مِنْ عَيْنٍ تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا» ، قَالَ: صَدَقْتَ، وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ، لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ رَجُلٌ، أَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: «يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟» ، قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنِي، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ، قَالَ: «مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ، مَنِيَّ الْمَرْأَةِ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللهِ، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ، مَنِيَّ الرَّجُلِ أُنْثَى بِإِذْنِ اللهِ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: لَقَدْ صَدَقْتَ، وَإِنَّكَ نَبِيٌّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَذَهَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِيِ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، وَمَالِي بِشَيْءٍ مِنْهُ عَلِمٌ، حَتَّى أَنْبَأَنِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
… وہ اس سے گرتے گرتے بچے، تو (نبی کریم ﷺ نے) فرمایا: ”تم مجھے کیوں دھکیل رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: کیا آپ یا رسول اللہ نہیں کہتے؟ اس پر یہودی نے کہا: ہم تو انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام محمد ہے، جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے۔“ یہودی نے کہا: میں آپ سے سوال کرنے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر میں تمہیں بتاؤں تو تمہیں کوئی فائدہ ہوگا؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود ایک لکڑی سے زمین پر نشان لگایا اور فرمایا: ”پوچھو۔“ یہودی نے کہا: جس دن زمین کسی اور زمین سے بدل دی جائے گی، اور آسمان بھی، اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ پل صراط سے پہلے اندھیرے میں ہوں گے۔“ اس نے کہا: پھر سب سے پہلے کون گزرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین میں سے فقراء۔“ یہودی نے کہا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ۔“ اس نے کہا: اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت کا وہ بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے کناروں کی گھاس کھاتا ہے۔“ اس نے کہا: اس پر ان کا مشروب کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چشمے سے جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا، اور میں آپ سے ایک ایسی بات کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے زمین والوں میں سے کوئی نہیں جانتا سوائے کسی نبی کے، یا ایک یا دو آدمیوں کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تمہیں بتاؤں تو تمہیں فائدہ ہوگا؟“ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے سنوں گا۔ اس نے کہا: میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مرد کا پانی سفید ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا ہوتا ہے، اور اگر عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی ہوتی ہے۔“ یہودی نے کہا: آپ نے سچ کہا، اور بیشک آپ نبی ہیں، پھر وہ واپس چلا گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے مجھ سے وہی سوال کیا جو یہ مجھ سے پوچھ رہا تھا، اور مجھے اس کا کوئی علم نہیں تھا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے مجھے خبر دی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1401
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 93، حدیث 1414
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُرْتَشِيَ وَالْمَرْشِيَّ وَالرَّائِشَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے رشوت لینے والے، رشوت دینے والے اور دونوں کے درمیان واسطہ بننے والے پر لعنت فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 93، حدیث 1415
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ، عَنْ عَائِذِ اللهِ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ تَعْمَلُونَ أَعْمَالًا لَا تُعْرَفُ، وَيُوشِكُ الْعَازِبُ أَنْ يثُوبَ إِلَى أَهْلِهِ، فَمَسْرُورٌ، ومَكْظُومٌ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسے اعمال کرتے ہو جو پہچانے نہیں جاتے، اور قریب ہے کہ غیر شادی شدہ شخص اپنے گھر والوں کی طرف لوٹے تو کوئی خوش ہو اور کوئی غمگین۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1403
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 94، حدیث 1416
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ يُقْرِضُ رَجُلًا، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ رمضان میں پچھنے لگوانے والے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک شخص کو قرض دے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1404
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 94، حدیث 1417
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ، يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ، وَالْقَسِّيِّ، وَثِيَابِ الْمُعَصْفَرِ الْمُقَدَّمِ، وَالنُّمُورِ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دیا: سونے کی انگوٹھی پہننا، قسی (ریشمی) کپڑا، آگے سے زعفرانی رنگ کیا ہوا کپڑا، اور چیتے کی کھال۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1405
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 94، حدیث 1418
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، وَاجْعَلُوا زِيَارَتَكمْ لَهَا صَلَاةً، عَلَيْهِمْ واسْتِغْفَارًا لَهُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا، مِنْهَا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُقَيَّرِ، فَانْتَبِذُوا وَانْتَفِعُوا بِهَا»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب ان کی زیارت کرو، اور اپنی زیارت کو ان کے لیے دعا اور استغفار بناؤ، اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب اس میں سے کھاؤ اور ذخیرہ کرو، اور میں نے تمہیں دباء، حنتم اور مقیر (کے برتنوں) میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، اب نبیذ بناؤ اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1406
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 94، حدیث 1419
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْفَعُ مَعَهُنَّ عَمَلٌ: الشِّرْكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزوں کے ساتھ عمل کوئی فائدہ نہیں دیتا: اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی نافرمانی، اور میدانِ جنگ سے بھاگنا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1407
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 95، حدیث 1420
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُقْبِلُ الْجَبَّارُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَثْنِي رِجْلَهُ عَلَى الْجِسْرِ، فَيَقُولُ: وَعِزَّتِي، وَجَلَالِي لَا يُجَاوِزُنِي ظَالِمٌ، فَيَنْصِفُ الْخَلْقَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَنْصِفُ الشَّاةَ الْجَمَّاءَ، مِنَ الْعَضْبَاءِ بِنَطْحَةٍ نَطَحَها "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جبار تعالیٰ آگے بڑھے گا اور پل صراط پر اپنی ٹانگ موڑے گا، پھر فرمائے گا: میری عزت اور میری جلالت کی قسم، کوئی ظالم مجھ سے آگے نہیں گزرے گا، پھر وہ مخلوق کو ایک دوسرے کا انصاف دلائے گا، یہاں تک کہ سینگ نہ رکھنے والی بکری کو سینگ والی بکری سے، اس مارے ہوئے سینگ کا بدلہ دلائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1408
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 95، حدیث 1421
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، احْتَجَمَ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَقَالَ: «اعْلِفُوهُ النَّاضِحَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی، اور فرمایا: ”یہ اپنے اونٹ کو چارہ ڈالو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1409
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 95، حدیث 1422
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الصَّحَابَةِ، يَنْظُرُونَ فِي الْقَدَرِ، وَالْجَبْرِ فِيهِمْ، أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهمَا، فَنَزَلَ الرُّوحُ الْأَمِينُ، جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ أَحْدَثُوا، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي سَاعَةٍ، لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فِيهَا، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ مِنْهُ، وَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُلْتَمِعًا لَوْنُهُ، مُتَوَرِّدَةً وَجْنَتَاهُ، كَأَنَّمَا تَفَقَّأَ بِحَبِّ الرُّمَّانِ الْحَامِضِ، فَنَهَضُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاسِرِينَ أَذْرُعَهُمْ تَرْعَدُ أَكُفُّهُمْ، وأَذْرُعُهمْ، فَقَالُوا: تُبْنَا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: " أَوْلَى لَكُمْ إِنْ كِدْتُمْ لَتُوجِبُونَ، أَتَانِي الرُّوحُ الْأَمِينُ، فَقَالَ: اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ، يَا مُحَمَّدُ فَقَدْ أَحْدَثَتْ "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صحابہ میں سے چالیس آدمی جمع ہوئے، وہ تقدیر اور جبر کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، تو روح الامین جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! اپنی امت کے پاس نکلیں، انہوں نے (دین میں) نئی بات پیدا کر لی ہے۔ آپ ﷺ ایک ایسے وقت میں ان کے پاس نکلے جس وقت آپ ﷺ کبھی نہیں نکلا کرتے تھے، انہوں نے اسے عجیب سمجھا، اور آپ ﷺ اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ کا رنگ متغیر تھا، رخسار سرخ ہو رہے تھے، گویا کہ ان پر کھٹے انار کے دانے پھوڑے گئے ہوں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی آستینیں چڑھائے، ہاتھ اور بازو کانپتے ہوئے کھڑے ہو گئے، اور کہا: ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بہتر یہی تھا، تم تو قریب تھے کہ (عذاب) واجب کر بیٹھو، میرے پاس روح الامین آئے تھے اور کہا: اے محمد! اپنی امت کے پاس نکلیں، انہوں نے (دین میں) نئی بات پیدا کر لی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1410
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 95، حدیث 1423
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِبَنِي الْعَبَّاسِ رَايَتَيْنِ، أَعْلَاهَا كُفْرٌ، وَمَرْكَزُها ضَلَالَةٌ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا فَلَا تَضِلَّ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنو عباس کے دو جھنڈے ہوں گے، ان کا اوپری حصہ کفر ہوگا، اور ان کا مرکز گمراہی ہوگا، اگر تم اسے پا لو تو اس میں گمراہ نہ ہونا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1411
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 96، حدیث 1424
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيتُ بَنِي مَرْوَانَ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي فَسَاءَنِي ذَلِكَ، وَرَأَيْتُ بَنِي الْعَبَّاسِ يَتَعَاوَرُونَ مِنْبَرِي، فَسَرَّنِي ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے دکھایا گیا کہ بنو مروان میرے منبر پر باری باری قبضہ کر رہے ہیں، تو یہ بات مجھے بری لگی، اور میں نے دیکھا کہ بنو عباس میرے منبر پر باری باری قبضہ کر رہے ہیں، تو یہ بات مجھے اچھی لگی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1412
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 96، حدیث 1425
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي، وَلِبَنِي الْعَبَّاسِ شَيَّعُوا أُمَّتِي، وَسَفَكُوا دِمَاءَها، وأَلْبَسُوها ثِيَابَ السَّوَادِ، أَلْبَسَهمُ اللهُ ثِيَابَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بنو عباس سے کیا (سروکار)، انہوں نے میری امت کو رسوا کیا، اور اس کا خون بہایا، اور اسے کالے کپڑے پہنائے، اللہ انہیں آگ کے کپڑے پہنائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 96، حدیث 1426
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو رک جاؤ، اور جب ستاروں کا ذکر ہو تو رک جاؤ، اور جب تقدیر کا ذکر ہو تو رک جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1414
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 96، حدیث 1427
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ، وَقَدْ ضَرَبَ أُخْتَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَهِي تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] ، حَتَّى أَظُنَّ أَنَّهُ قَتَلَهَا، ثُمَّ قَامَ مِنَ السَّحَرِ فَسَمِعَ صَوْتَهَا، تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] فَقَالَ: وَاللهِ مَا هَذَا بِشِعْرٍ، وَلَا هَمْهَمَةٍ، فَذَهَبَ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ بِلَالًا، عَلَى الْبَابِ فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقَالَ بِلَالٌ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ عُمَرُ بِالْبَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يُرِدِ اللهُ بِعُمَرَ خَيْرًا، أَدْخَلَهُ فِي الدِّينِ» ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: افْتَحْ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِضَبْعَيْهِ، فَهَزَّهُ، فَقَالَ: «مَا الَّذِي تُرِيدُ، وَمَا الَّذِي جِئْتَ؟» ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْرِضْ عَلَيَّ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ، فَأَسْلَمَ عُمَرُ مَكَانَهُ وَقَالَ: «اخْرُجْ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت دے“، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے سے پہلے) رات کے شروع میں اپنی بہن کو مار رہے تھے جبکہ وہ ”اقرأ باسم ربک الذی خلق“ [سورۃ العلق: 1] پڑھ رہی تھیں، یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ انہیں قتل کر دیں گے، پھر وہ سحر کے وقت اٹھے تو انہوں نے اس کی آواز سنی، وہ ”اقرأ باسم ربک الذی خلق“ پڑھ رہی تھیں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، یہ نہ شعر ہے اور نہ بڑبڑاہٹ، پھر وہ چلے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پایا، انہوں نے دروازہ دھکیلا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کے لیے اجازت لے لوں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! عمر دروازے پر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ عمر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اسے دین میں داخل کر دے گا۔“ پھر بلال سے فرمایا: دروازہ کھولو۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے دونوں بازو پکڑ کر انہیں جھنجھوڑا اور فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو، اور تم کیا لے کر آئے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ پر وہ پیش کریں جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہیں اسلام قبول کر لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکلو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1415
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 97، حدیث 1428
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ» ، قَالَ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «اعْرِضُوا حَدِيثِي عَلَى الْكِتَابِ، فَمَا وَافَقَهُ فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا قُلْتُهُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! اسلام کی چکی گھوم رہی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری حدیث کو اللہ کی کتاب پر پیش کرو، جو اس کے موافق ہو وہ مجھ سے ہے اور میں نے ہی کہا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1416
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 97، حدیث 1429
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي ثَلَاثَةً: الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ نے میری امت سے تین چیزیں معاف کر دی ہیں: غلطی، بھول، اور وہ کام جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1417
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 97، حدیث 1430
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي، يَتَعَاطَوْنَ، فُقَهَاؤُهُمْ عُضُلَ الْمَسَائِلِ، أُولَئِكَ شِرَارُ أُمَّتِي»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو مشکل مسائل سے الجھیں گے، یہی لوگ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1418
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1431
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ، مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے وہی حرام ہوتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1419
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي، أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ، وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟» فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا فَكَانَ ثَوْبَانُ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون میرے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا، اور میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں؟“ تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ چنانچہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1420
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1433
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1421
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَضْمَنُ لِي خَلَّةً، فَأَضْمَنَ لَهُ الْجَنَّةَ؟» ، قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا» قَالَ: «فَإِنْ كَانَ ثَوْبَانُ لَيَسْقُطُ سَوْطُهُ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَيَذْهَبُ الرَّجُلُ يُنَاوِلُهُ، فَيُنِيخُ بَعِيرَهُ، فَيَأْخُذُ سَوْطَهُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون میرے لیے ایک بات کی ضمانت دیتا ہے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا کوڑا ان کے اونٹ پر سوار ہوتے ہوئے گر جاتا تو کوئی آدمی انہیں پکڑانے جاتا تو وہ خود اپنے اونٹ کو بٹھا کر اپنا کوڑا اٹھا لیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1422
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ فَقَالَ: «إِنَّا مُدْلِجُونَ، فَلَا يَدْخُلَنَّ مَعَنَا مُضْعِفٌ، وَلَا مُصْعِبٌ» ، فَارْتَحَلَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ، صَعْبَةٍ فَصَرَعَتْهُ، فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ، فَمَاتَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى «إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ثَلَاثًا»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے تو فرمایا: ”ہم رات کو سفر کرنے والے ہیں، تو ہمارے ساتھ کوئی کمزور اونٹ والا اور نہ کوئی سرکش اونٹ والا شامل ہو“، تو ایک شخص ایک سرکش اونٹنی پر سوار ہوا تو اس نے اسے گرا دیا، اس کی ران ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کا حکم دیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے پکار کر اعلان کیا: ”نافرمان کے لیے تین دن تک جنت حلال نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1423
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 98، حدیث 1436
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ، إِلَى عُمَانَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْثَرُ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَنْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ؟ قَالَ: «الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدَّنَسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَمَنِّعاتِ، وَلَا يُفْتَحُ لَهُمْ بَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطُونَ الَّذِي لَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور سب سے زیادہ وہاں آنے والے مہاجرین کے فقراء ہوں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مہاجرین کے فقراء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ سر والے، میلے کپڑوں والے، جو نازونعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے، اور نہ ان کے لیے (امیروں کے) دروازے کھولے جاتے ہیں، جو اپنا حق (پورا پورا) ادا کر دیتے ہیں، مگر انہیں ان کا حق نہیں دیا جاتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1424
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 99، حدیث 1437
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ عَدِيٍّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ لَا يَمْنَعَنَ الصِّيَامَ: الْحِجَامُ، وَالْقَيْءُ، وَالِاحْتِلَامُ، وَلَا يَتَقَيَّأُ الصَّائِمُ مُتَعَمِّدًا "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں: پچھنے لگوانا، قے آنا، اور احتلام ہونا، البتہ روزہ دار جان بوجھ کر قے نہ کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1425
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 99، حدیث 1438
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ نُحَاسٍ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: «انْزِعْهُ عَنْكَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ اپنے ایک صحابی کے پاس سے گزرے، اس کے ہاتھ میں پیتل کی ایک انگوٹھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: کمزوری (واہنہ نامی بیماری) کے لیے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اتار دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1426
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 99، حدیث 1439
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ، عَنْ بَلْجٍ الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا ثَوْبَانُ حَدِّثْنَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے کہا: اے ثوبان! ہمیں نبی کریم ﷺ سے حدیث بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کو قے آئی تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1427
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 100، حدیث 1440
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ تَوَضَّأَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الثَّمَانِيَةِ مِنَ الْجَنَّةِ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا يَشَاءُ "
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1428
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 100، حدیث 1441
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ، بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تقدیر کو صرف دعا ہی لوٹاتی ہے، اور عمر میں صرف نیکی ہی اضافہ کرتی ہے، اور بیشک آدمی اپنے کسی گناہ کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1429
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 100، حدیث 1442
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ، إِلَى عُمَانَ، أَكْوَابُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: «شُعْثُ الرُّءُوسِ، دَنَسُ الثِّيَابِ، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَمَنِّعَاتِ، وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ مَا عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطُونَ مَا لَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میرا حوض عدن سے عمان تک ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، سب سے پہلے وہاں آنے والے مہاجرین کے فقراء ہوں گے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان کی صفت بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ سر والے، میلے کپڑوں والے، جو نازونعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے، اور نہ ان کے لیے (امیروں کے) دروازے کھولے جاتے ہیں، جو اپنا حق ادا کر دیتے ہیں مگر انہیں ان کا حق نہیں دیا جاتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1430
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 100، حدیث 1443
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْتَقِيمُوا، وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا، أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سیدھے رہو، اور تم (اپنے اعمال کا) شمار نہیں کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے بہترین اعمال میں سے نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1431
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 101، حدیث 1444
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ، فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ» ، قِيلَ: وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «جَنَاهَا»
ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مریض کی عیادت کرتا ہے وہ ہمیشہ جنت کے ”خرفہ“ میں رہتا ہے“، پوچھا گیا: جنت کا ”خرفہ“ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پھل۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1432
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 101، حدیث 1445