المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي، أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ، وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟» فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا فَكَانَ ثَوْبَانُ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًاترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون میرے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ لوگوں سے سوال نہیں کرے گا، اور میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں؟“ تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ چنانچہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے۔