المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1424
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ، إِلَى عُمَانَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْثَرُ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَنْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ؟ قَالَ: «الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدَّنَسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَمَنِّعاتِ، وَلَا يُفْتَحُ لَهُمْ بَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطُونَ الَّذِي لَهُمْ»ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان تک ہے، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور سب سے زیادہ وہاں آنے والے مہاجرین کے فقراء ہوں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! مہاجرین کے فقراء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ سر والے، میلے کپڑوں والے، جو نازونعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے، اور نہ ان کے لیے (امیروں کے) دروازے کھولے جاتے ہیں، جو اپنا حق (پورا پورا) ادا کر دیتے ہیں، مگر انہیں ان کا حق نہیں دیا جاتا۔“