المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1404
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ يُقْرِضُ رَجُلًا، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ»ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ رمضان میں پچھنے لگوانے والے ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک شخص کو قرض دے رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“