المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِينَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَضْمَنُ لِي خَلَّةً، فَأَضْمَنَ لَهُ الْجَنَّةَ؟» ، قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا» قَالَ: «فَإِنْ كَانَ ثَوْبَانُ لَيَسْقُطُ سَوْطُهُ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَيَذْهَبُ الرَّجُلُ يُنَاوِلُهُ، فَيُنِيخُ بَعِيرَهُ، فَيَأْخُذُ سَوْطَهُ»ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون میرے لیے ایک بات کی ضمانت دیتا ہے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دوں؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں سے کچھ نہ مانگو۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا کوڑا ان کے اونٹ پر سوار ہوتے ہوئے گر جاتا تو کوئی آدمی انہیں پکڑانے جاتا تو وہ خود اپنے اونٹ کو بٹھا کر اپنا کوڑا اٹھا لیتے۔