المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ، وَقَدْ ضَرَبَ أُخْتَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَهِي تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] ، حَتَّى أَظُنَّ أَنَّهُ قَتَلَهَا، ثُمَّ قَامَ مِنَ السَّحَرِ فَسَمِعَ صَوْتَهَا، تَقْرَأُ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: ١] فَقَالَ: وَاللهِ مَا هَذَا بِشِعْرٍ، وَلَا هَمْهَمَةٍ، فَذَهَبَ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ بِلَالًا، عَلَى الْبَابِ فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقَالَ بِلَالٌ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ عُمَرُ بِالْبَابِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يُرِدِ اللهُ بِعُمَرَ خَيْرًا، أَدْخَلَهُ فِي الدِّينِ» ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: افْتَحْ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِضَبْعَيْهِ، فَهَزَّهُ، فَقَالَ: «مَا الَّذِي تُرِيدُ، وَمَا الَّذِي جِئْتَ؟» ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْرِضْ عَلَيَّ الَّذِي تَدْعُو إِلَيْهِ، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ، فَأَسْلَمَ عُمَرُ مَكَانَهُ وَقَالَ: «اخْرُجْ»سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت دے“، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (اسلام لانے سے پہلے) رات کے شروع میں اپنی بہن کو مار رہے تھے جبکہ وہ ”اقرأ باسم ربک الذی خلق“ [سورۃ العلق: 1] پڑھ رہی تھیں، یہاں تک کہ مجھے خیال ہوا کہ وہ انہیں قتل کر دیں گے، پھر وہ سحر کے وقت اٹھے تو انہوں نے اس کی آواز سنی، وہ ”اقرأ باسم ربک الذی خلق“ پڑھ رہی تھیں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، یہ نہ شعر ہے اور نہ بڑبڑاہٹ، پھر وہ چلے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پایا، انہوں نے دروازہ دھکیلا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ذرا میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کے لیے اجازت لے لوں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! عمر دروازے پر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ عمر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اسے دین میں داخل کر دے گا۔“ پھر بلال سے فرمایا: دروازہ کھولو۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے دونوں بازو پکڑ کر انہیں جھنجھوڑا اور فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو، اور تم کیا لے کر آئے ہو؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ پر وہ پیش کریں جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہیں اسلام قبول کر لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”نکلو۔“