المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " من غرائب مسند ثوبان رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ويقال: هو من اليمن، من حمير مولى آل رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويقال أصابه سبي فاشتراه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأعتقه كان يسكن حمص، مات سنة أربع باب: سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ (یہ مسند ثوبان رضی اللہ عنہ کی نادر روایات میں سے ہے)، کنیت ابوعبداللہ، کہا جاتا ہے کہ وہ یمن کے حمیر قبیلے سے ہیں، آل رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ وہ قید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا، وہ حمص میں رہتے تھے، اور چار ہجری میں وفات پائی
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدْنٍ، إِلَى عُمَانَ، أَكْوَابُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: «شُعْثُ الرُّءُوسِ، دَنَسُ الثِّيَابِ، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَمَنِّعَاتِ، وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ مَا عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطُونَ مَا لَهُمْ»ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک میرا حوض عدن سے عمان تک ہے، اس کے پیالے ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، سب سے پہلے وہاں آنے والے مہاجرین کے فقراء ہوں گے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان کی صفت بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پراگندہ سر والے، میلے کپڑوں والے، جو نازونعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے، اور نہ ان کے لیے (امیروں کے) دروازے کھولے جاتے ہیں، جو اپنا حق ادا کر دیتے ہیں مگر انہیں ان کا حق نہیں دیا جاتا۔“