حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو النَّضْرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَرْبَعُونَ رَجُلًا مِنَ الصَّحَابَةِ، يَنْظُرُونَ فِي الْقَدَرِ، وَالْجَبْرِ فِيهِمْ، أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهمَا، فَنَزَلَ الرُّوحُ الْأَمِينُ، جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَقَدْ أَحْدَثُوا، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي سَاعَةٍ، لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فِيهَا، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ مِنْهُ، وَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُلْتَمِعًا لَوْنُهُ، مُتَوَرِّدَةً وَجْنَتَاهُ، كَأَنَّمَا تَفَقَّأَ بِحَبِّ الرُّمَّانِ الْحَامِضِ، فَنَهَضُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَاسِرِينَ أَذْرُعَهُمْ تَرْعَدُ أَكُفُّهُمْ، وأَذْرُعُهمْ، فَقَالُوا: تُبْنَا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: " أَوْلَى لَكُمْ إِنْ كِدْتُمْ لَتُوجِبُونَ، أَتَانِي الرُّوحُ الْأَمِينُ، فَقَالَ: اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ، يَا مُحَمَّدُ فَقَدْ أَحْدَثَتْ "
ترجمہ

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: صحابہ میں سے چالیس آدمی جمع ہوئے، وہ تقدیر اور جبر کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے، ان میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، تو روح الامین جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! اپنی امت کے پاس نکلیں، انہوں نے (دین میں) نئی بات پیدا کر لی ہے۔ آپ ﷺ ایک ایسے وقت میں ان کے پاس نکلے جس وقت آپ ﷺ کبھی نہیں نکلا کرتے تھے، انہوں نے اسے عجیب سمجھا، اور آپ ﷺ اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ کا رنگ متغیر تھا، رخسار سرخ ہو رہے تھے، گویا کہ ان پر کھٹے انار کے دانے پھوڑے گئے ہوں، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی آستینیں چڑھائے، ہاتھ اور بازو کانپتے ہوئے کھڑے ہو گئے، اور کہا: ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے بہتر یہی تھا، تم تو قریب تھے کہ (عذاب) واجب کر بیٹھو، میرے پاس روح الامین آئے تھے اور کہا: اے محمد! اپنی امت کے پاس نکلیں، انہوں نے (دین میں) نئی بات پیدا کر لی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1410
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 95، حدیث 1423