عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ عِنْدَ الْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ رَأَيْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَحَدِيثُ عُثْمَانَ فِي الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے پانی منگوایا اور ” مقاعد “ کے پاس وضو کرتے ہوئے اعضاء کو تین ، تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے دریافت کیا : کیا آپ لوگوں نے اللہ کے رسول کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا عثمان صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سیدنا عثمان صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِالْوُضُوءِ وَعِنْدَهُ الزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَعَلِيٌّ وَسَعْدٌ ، فَتَوَضَّأَ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَعَلَى شَمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ رَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى ، ثُمَّ غَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِينِ حَضَرُوا : أُنَاشِدُكُمُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَوَضَّأُ كَمَا تَوَضَّأْتُ الْآنَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . وَذَلِكَ لِشَيْءٍ بَلَغَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَأَبُو النَّضْرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَشْرَةِ ، وَفِيهِ أَيْضًا : غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ مَرَّةً ، وَقَالَ مَرَّةً : صَالِحٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
ابونضر بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا ، اُس وقت ان کے پاس سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ موجود تھے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کرنا شروع کیا ، یہ حضرات دیکھ رہے تھے ، انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دائیں بازو پر تین مرتبہ پانی بہایا ، پھر بائیں بازو پر تین مرتبہ پانی بہایا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا ، پھر دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا ، پھر بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا ، پھر انہوں نے حاضرین سے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے جس طرح میں نے ابھی وضو کیا ہے ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کیا تھا کیونکہ انہیں اس حوالے سے کوئی اطلاع ملی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ابونضر نامی راوی نے ” عشرہ مبشرہ“ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں یہ بھی مذکور ہے ، ایک راوی غسان بن الربیع ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ صالح ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ابونضر نامی راوی نے ” عشرہ مبشرہ“ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں یہ بھی مذکور ہے ، ایک راوی غسان بن الربیع ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ صالح ہے ، ابن حبان نے اس راوی کا ذکر کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
وَعَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانٍ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأَمَرَّ بِيَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى لِحْيَتِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : تَوَضَّأْتُ لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ كَمَا رَأَيْتُهُ رَكَعَ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ " . ¤ قُلْتُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حمران بن ابان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، وہ اس وقت مسجد کے دروازے کے پاس موجود تھے ، انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے دونوں بازو کہنیوں تک تین مرتبہ دھوئے ، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا ، اور اپنے ہاتھ کان کے بیرونی حصے پر پھیرے ، پھر انہیں اپنی داڑھی پر پھیرا ، پھر انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھر انہوں نے اُٹھ کر دو رکعت ادا کیں اور پھر یہ فرمایا : میں نے تمہارے سامنے اسی طرح وضو کیا ہے ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ، پھر میں نے اسی طرح دو رکعات ادا کی ہیں ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو رکعات ادا کر کے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس طرح وضو کرے ، جس طرح میں نے وضو کیا ہے اور پھر دو رکعات یوں ادا کرے کہ اس دوران اپنے خیالوں میں گم نہ ہو جائے ، تو اس شخص کے ان دو رکعات ، اور اس سے پچھلے دن کی نماز کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَطَهَّرَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ قُلْنَا : مَا أَضْحَكَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : ضَحِكْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا بِوَضُوءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ كَمَا ضَحِكْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ " قُلْنَا : مَا أَضْحَكَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَضْحَكَنِي أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ - حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَ بِوَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ ، فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ كَانَ كَذَلِكَ ، فَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اپنے سر پر مسح کیا ، اپنے پاؤں دھوئے اور پھر ہنس پڑے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ دریافت نہیں کرو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے ہنسنے کی وجہ یہ ہے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کے قریب وضو کا پانی منگوایا ، پھر آپ نے اُسی طرح وضو کیا ، جس طرح میں نے وضو کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ہنس پڑے ، جس طرح میں ہنس پڑا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات پر ہنسا ہوں کہ جب کوئی بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کا ہر وہ گناہ ختم کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس نے اپنے چہرے کے ذریعے کیا ہو ، جب وہ بندہ اپنے بازو دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ، تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے ، دونوں بازو دو مرتبہ دھوئے ، چہرہ تین مرتبہ دھویا اور سر پر دو مرتبہ مسح کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنے سر پر دو مرتبہ مسح کیا “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنے سر پر دو مرتبہ مسح کیا “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - وَكَانَ أَمِيرًا بِعُمَانَ ، فَكَانَ كَخَيْرِ الْأُمَرَاءِ - قَالَ : قَالَ أَبِي : اجْتَمِعُوا فَلْأُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ; فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ . قَالَ : فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ، وَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ ثَلَاثًا - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا ، وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ - يَعْنِي الْيُمْنَى - ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن براء بن عازب ، جو ” عمان “ کے گورنر تھے اور بہترین گورنر تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے یہ کہا: تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ ! تاکہ میں تم لوگوں کو یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے اور آپ کس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں اور کتنا عرصہ تمہارے ساتھ رہوں گا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے بال بچوں کو اکٹھا کیا اور وضو کا پانی منگوایا ، انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، اپنا دایاں بازو تین مرتبہ دھویا ، اپنا یہ والا تین مرتبہ دھویا ، اُن کی مراد بایاں بازو تھا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا اور کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا ، پھر انہوں نے یہ یعنی دایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا ، پھر یہ یعنی بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں تمہیں یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ( أَبِي ) قُرَادٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجًّا قَالَ : فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ لِلْخَلَاءِ ، فَاتَّبَعْتُهُ بِالْأَدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوُضُوءُ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَكَفَأَهَا ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَبَضَ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةً ، ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ ، فَنَضَحَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ الْأَصْلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہیں ، تو میں برتن ، راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ دور تشریف لے جاتے تھے ، میں آپ کے لئے راستے میں بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ وضو کریں گے ؟ یہاں وضو کا پانی موجود ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے ، آپ نے اپنے ہاتھ پر پانی ڈال کر اُسے دھویا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ پانی میں داخل کیا ، اور چلو میں پانی لے کر اپنے بازو پر ایک مرتبہ بہایا ، پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنی مٹھی میں پانی لیا اور اسے اپنے پاؤں کے اوپری حصے پر ڈالا ، آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے پاؤں کے اوپری حصے پر پانی چھڑکا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اصل “ میں
یہ روایت اسی طرح مذکور ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ قضائے حاجت کرنے لگتے ، تو آپ دور تشریف لے جاتے “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت اسی طرح مذکور ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ قضائے حاجت کرنے لگتے ، تو آپ دور تشریف لے جاتے “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ تَمَضْمَضَ وَمَسَحَ لِحْيَتَهُ بِالْمَاءِ مِنْ تَحْتِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلی کرتے تھے اور پانی کے ذریعے اپنی داڑھی کا نیچے کی طرف سے مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا قَوْلَهُ : وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، ایسی سند کے ساتھ ،
یہ روایت منقول ہے ، جس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، آپ نے تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ، تین مرتبہ سر کا مسح کیا ، اور تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت منقول ہے ، جس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، آپ نے تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ، تین مرتبہ سر کا مسح کیا ، اور تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ( ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ) ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سُمَيْعٍ عَنْهُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَسُمَيْعٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، وَلَا ابْنَ مَنْ هُوَ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ اعْتَمَدَ فِي تَوْثِيقِهِ عَلَى غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے ، تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سمیع نامی راوی کے حوالے سے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، سمیع نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دینے میں کسی اور پر اعتماد کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سمیع نامی راوی کے حوالے سے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، سمیع نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دینے میں کسی اور پر اعتماد کیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا ، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَاكَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ مُطَوَّلٌ فِي هَذَا ، وَفِي كُلٍّ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ مَا لَيْسَ فِي الْآخَرِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایک ، ایک مرتبہ وضو کرتا ہے ( یعنی وضو کرتے ہوئے ، ہر عضو کو ایک مرتبہ دھوتا ہے ) تو یہ وضو کا ایسا طریقہ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ، اور جو شخص دو مرتبہ وضو کرتا ہے ، تو اسے اجر کے دو کفل ملیں گے ، اور جو شخص تین مرتبہ وضو کرتا ہے ، تو یہ میرا اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام کا وضو کا طریقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید عمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اسے ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، اور وہ اس سے طویل حدیث ہے ، تاہم دونوں روایات میں کچھ چیزیں ایسی ہیں ، جو دوسری میں نہیں ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید عمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اسے ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، اور وہ اس سے طویل حدیث ہے ، تاہم دونوں روایات میں کچھ چیزیں ایسی ہیں ، جو دوسری میں نہیں ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
وَعَنْ رَاشِدِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِالزَّاوِيَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَخْبِرْنِي عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ كَانَ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ كُنْتَ تُوَضِّئُهُ . قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَا بِوُضُوءٍ ، فَأُتِيَ بِطَسْتٍ وَبِقَدَحٍ نُحِتَ ( يَقُولُ ) كَمَا نُحِتَ ( فِي أَرْضِهِ ) فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، فَأَنْعَمَ غُسْلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً غَيْرَ أَنَّهُ أَمَرَّهَا عَلَى أُذُنَيْهِ ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
راشد ابومحمد حمانی بیان کرتے ہیں : میں نے ” زاویہ “ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، تو میں نے اُن سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسا ہوتا تھا ؟ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ اس طرح وضو کر کے دکھاتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، تو ایک طشت اور ایک پیالہ لایا گیا جو پتھر سے بنا ہے ، وہ اُن کے سامنے رکھا گیا ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، اور پھر دونوں ہاتھ اچھی طرح دھوئے ، پھر انہوں نے تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر اپنا دایاں بازو ( آستین سے ) نکال کر اسے تین مرتبہ دھویا ، پھر بایاں بازو تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا ، البتہ انہوں نے اپنے کانوں پر بھی ہاتھ پھیرا اور ان پر مسح کیا ، پھر انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی میں داخل کیں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : كَيْفَ أَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتَنِي كَيْفَ أَتَوَضَّأُ ، وَلَا تَسْأَلُنِي كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ؟ ! رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَقَالَ : " بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بن ابوعبلہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : میں کیسے وضو کروں ؟ تو انہوں نے فرمایا : تم نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے ، کہ میں کیسے وضو کروں ؟ تم نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا : کہ آپ نے ، اللہ کے رسول کو کس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ( پھر انہوں نے بتایا : ) میں نے اللہ کے رسول کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین ، تین مرتبہ وضو کے اعضاء کو دھوتے تھے ، آپ نے یہ ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَقَالَ : " هَذَا الْوُضُوءُ الَّذِي لَا يَقْبَلُ اللَّهُ الصَّلَاةَ إِلَّا بِهِ " ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ ، فَقَالَ : " هَذَا وُضُوءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ " ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، فَقَالَ : " هَذَا وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا ، اور ایک ، ایک مرتبہ وضو کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ وضو ہے ، کہ اللہ تعالیٰ اس کے بغیر نماز کو قبول نہیں کرتا ، پھر آپ نے دو ، دو مرتبہ وضو کیا اور ارشاد فرمایا : یہ تم سے پہلے کی امتوں کا وضو کا طریقہ ہے ، پھر آپ نے تین ، تین مرتبہ وضو کیا اور ارشاد فرمایا : یہ میرا اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام کا وضو کا طریقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، وَرَأَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ، وَمَرَّةً مَرَّةً . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے ، اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا ، دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے ، پھر ایک مرتبہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، تو آپ نے ایک ، ایک مرتبہ وضو کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں
یہ روایت منقول ہے : ” میں نے اللہ کے رسول کو تین ، تین مرتبہ دو ، دو مرتبہ اور ایک ، ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں
یہ روایت منقول ہے : ” میں نے اللہ کے رسول کو تین ، تین مرتبہ دو ، دو مرتبہ اور ایک ، ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الْوُضُوءُ ؟ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوُضُوءٍ ، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَاهِرِ أُذُنَيْهِ مَعَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا الْوُضُوءُ ، فَمَنْ زَادَ فَقَدْ تَعَدَّى وَظَلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! وضو کیسے کیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھویا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ، اور تین مرتبہ کلی کی ، اور ناک میں پانی ڈالا ، آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، سر کے ہمراہ آپ نے اپنے دونوں کانوں کے بیرونی حصے کا بھی مسح کیا ، پھر آپ نے دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح وضو ہو گا جو شخص اس سے زیادہ کرے گا ، وہ زیادتی اور ظلم کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام أحمد ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ دحیم نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام أحمد ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ دحیم نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَطَهَّرُ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ إِنَاءٌ قَدْرَ الْمُدِّ ، وَإِنْ زَادَ فَقَلَّمَا زَادَ ، وَإِنْ نَقَصَ فَقَلَّمَا نَقَصَ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَكَذَا التَّطَهُّرُ ؟ قَالَ : " هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعُ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت وضو کر رہے تھے ، آپ کے سامنے جو برتن موجود تھا ، اس میں ایک ” مد “ کی مقدار میں پانی آتا تھا ، اگر زیادہ ہوتا ، تو تھوڑا سا زیادہ ہوتا ، اور اگر کم ہوتا ، تو تھوڑا سا کم ہوتا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، ایسا آپ نے تین ، تین مرتبہ کیا ، آپ نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، اور اپنی داڑھی کا خلال کیا ، پھر اپنے دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اور اپنے سر اور دونوں کانوں پر دو ، دو مرتبہ مسح کیا پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، اور انہیں اچھی طرح صاف کیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اسی طرح طہارت حاصل کی جاتی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَأَفَاضَ بِهَا عَلَى الْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَمَسَ الْيُمْنَى فَحَفَنَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ ، فَتَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَحَمَلَ بِهِمَا مَاءً فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ خَلَّلَ لِحْيَتَهُ ، وَمَسَحَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَأَدْخَلَ خِنْصَرَهُ فِي دَاخِلِ أُذُنِهِ لِيَبْلُغَ الْمَاءُ ، ثُمَّ مَسَحَ رَقَبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءِ الْوَجْهِ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا حَتَّى جَاوَزَ الْمَرْفِقَ ، وَغَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَرْفِقَ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ ظَاهِرَ أُذُنَيْهِ ، وَمَسَحَ رَقَبَتَهُ وَبَاطِنَ لِحْيَتَهُ بِفَضْلِ مَاءِ الرَّأْسِ ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَخَلَّلَ أَصَابِعَهَا وَجَاوَزَ بِالْمَاءِ الْكَعْبَ ، وَرَفَعَ فِي السَّاقِ الْمَاءَ ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنَ الْمَاءِ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَوَضَعَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى تَحَدَّرَ مِنْ جَوَانِبِ رَأْسِهِ ، وَقَالَ : " هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ " ، فَدَخَلَ مِحْرَابَهُ ، وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ ، وَنَظَرَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ النَّسَائِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَفِي سَنَدِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ حَجَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَفِي حَدِيثِ الْبَزَّارِ طُولٌ فِي أَمْرِ الصَّلَاةِ يَأْتِي فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، ایک برتن لایا گیا ، جس میں پانی تھا ، آپ نے اپنے دائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ، اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو پانی میں ڈال کر چلو میں پانی لیا اور اس کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا ، پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کئے ، ان میں پانی لیا اور اس کے ذریعے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، پھر آپ نے اپنی داڑھی کا خلال کیا ، اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصے کا مسح کیا اور اپنی چھوٹی انگلی کان میں داخل کی ، تاکہ وہاں تک پانی پہنچ جائے ، پھر آپ نے اپنی گردن کا اور داڑھی کے نیچے والے حصے کا ، چہرے کے پانی سے بچ جانے والے پانی کے ذریعے مسح کیا ؟ پھر آپ نے اپنا دایاں بازو تین مرتبہ دھویا ، یہاں تک کہ کہنی سے اوپر تک دھویا ، پھر بایاں بازو اسی طرح کہنی سے اوپر تک دھویا ، پھر آپ نے اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کیا اور کانوں کے بیرونی حصے کا مسح کیا ، آپ نے اپنی گردن اور داڑھی کے نیچے والے حصے کا ، سر کے پانی سے بچ جانے والے پانی کے ذریعے مسح کیا ، پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں دھویا اور اس کی انگلیوں کا خلال کیا ، یہاں تک کہ پانی ٹخنے سے اوپر تک آیا ، آپ نے پانی پنڈلی تک ڈالا ، پھر اپنے بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ، پھر اپنی دائیں ہتھیلی میں ، چلو میں پانی لیا ، اور اسے اپنے سر پر ڈال دیا یہاں تک کہ وہ سر کے اطراف سے نیچے آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مکمل وضو ہے ، پھر آپ محراب میں داخل ہوئے ، لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی ، آپ نے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ حدیث امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عبدالجبار ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، امام بزار اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے اور وہ ضعیف ہے امام بزار کی نقل کردہ روایت میں نماز کا تذکرہ طوالت کے ساتھ ہے ، اور وہ روایت آگے چل کر ” نماز کے طریقے “ سے متعلق بات میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ، ایک مرتبہ وضو کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کی “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جسے امام أحمد اور علی بن مدینی نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسری روایت کے مطابق انہوں ( یعنی یحیی بن معین ) نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز ادا کی “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جسے امام أحمد اور علی بن مدینی نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسری روایت کے مطابق انہوں ( یعنی یحیی بن معین ) نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ يُقْبِلُ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، وَخَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي بَكْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبَكَّارٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ ، وَابْنُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَالِحٌ . قُلْتُ : وَشَيْخُ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْعَوَّامِ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے ، تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، آپ اپنے دونوں ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے اور پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے ، پھر آپ نے دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے ، آپ نے پاؤں کی انگلیوں ، اور داڑھی کا خلال کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اور بکار نامی راوی میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس کا بیٹا عبدالرحمن ، صالح ہے ، میں یہ کہتا ہوں : امام بزار کے استاد محمد بن صالح بن عوام کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اور بکار نامی راوی میں کوئی حرج نہیں ہے ، اس کا بیٹا عبدالرحمن ، صالح ہے ، میں یہ کہتا ہوں : امام بزار کے استاد محمد بن صالح بن عوام کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمَضْمِضْ ثَلَاثًا ; فَإِنَّ الْخَطَايَا تَخْرُجُ مِنْ وَجْهِهِ ، وَيَغْسِلْ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَيَمْسَحْ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يُدْخِلْ يَدَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ يُفْرِغْ عَلَى رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُوسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص وضو کرے تو اُسے تین مرتبہ کلی کرنی چاہیے ، کیونکہ ( اس کی وجہ سے ) اُس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں ، اور تین مرتبہ دونوں بازو دھونے چاہییں ، اور تین مرتبہ سر پر مسح کرنا چاہیے ، پھر اُسے اپنے ہاتھ کان میں داخل کرنے چاہیں اور پھر اپنے پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوموسیٰ حناط ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوموسیٰ حناط ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ فَقَالَ : أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَيْفَ صَلَّى ؟ قُلْنَا : بَلَى . فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا ، وَأَمَسَّ أُذُنَيْهِ ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبًا فَاشْتَمَلَ بِهِ وَصَلَّى . قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ حِبِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبَّادِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عباد بن یحییٰ بن خلاد زرقی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں یہ ( کر کے ) نہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے اور کیسے نماز ادا کرتے تھے ؟ ہم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے دونوں ہاتھ تین ، تین مرتبہ دھوئے ، سر کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسیح کیا ، انہوں نے اپنے کانوں پر بھی ہاتھ پھیرا ، اور دونوں پاؤں تین ، تین مرتبہ دھوئے ، پھر انہوں نے کپڑا لے کر اسے لپیٹا اور نماز ادا کی ، انہوں نے یہ بتایا : میں نے اپنے محبوب ( یعنی ) اللہ کے رسول کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضو کر کے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عباد بن یحییٰ بن خلاد زرقی ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عباد بن یحییٰ بن خلاد زرقی ہے ، میں نے کسی کو اُس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَتَنَاوَلَ الْمَاءَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَرَشَّ عَلَى قَدَمَيْهِ فَغَسَلَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ” بقیع غرقد “ کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے ، دونوں بازوؤں کو دھویا ، اور اپنے سر پر مسح کیا ، پھر اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اپنے قدموں پر ڈالا ، اور انہیں دھو لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وَاحِدَةً وَاحِدَةً ، وَثِنْتَيْنِ ثِنْتَيْنِ ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا ، كُلَّ ذَلِكَ يَفْعَلُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَصْلُوبُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ، ایک مرتبہ دو ، دو مرتبہ ، اور تین ، تین مرتبہ ، ان میں سے ہر طرح وضو کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید مصلوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ أَنَّهُ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ مِنْكَ خَيْرًا كَثِيرًا ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَلَمْ يُوَقِّتْ ، وَطَهَّرَ قَدَمَيْهِ وَلَمْ يُوَقِّتْ ، وَقَالَ : " يَا ( أَبَا ) كَاهِلٍ ، ضَعِ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ ، وَأَبْقِ فَضْلَ طَهُورِكَ لِأَهْلِكَ ، لَا تُعَطِّشْ أَهْلَكَ، وَلَا تَشْقُقَّ عَلَى خَادِمِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنِ جَمَّازٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اُس وقت وضو کرنے لگے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت سی بھلائی عطا کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اپنے سر کا مسح کیا ، تاہم انہوں نے متعین نہیں کیا ، اور دونوں پاؤں دھوئے اور متعین نہیں کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوکاہل ! تم وضو کے پانی کو اس کے مخصوص مقام پر ڈالو ! اور وضو کا بچ جانے والا پانی اپنے اہل خانہ کے لئے باقی رہنے دو ! تم اپنے اہلخانہ کو پیاسا نہ رکھو ، اور اپنے خادم کو مشقت کا شکار نہ کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَوَضَّأَ اسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ،وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي فَمِهِ ، وَكَانَ يَبْلُغُ بِرَاحَتَيْهِ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ مَسَحَ بِإِصْبَعَيْهِ مَا أَدْبَرَ وَأُذُنَيْهِ مَعَ رَأْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو تین مرتبہ ناک صاف کرتے تھے ، کلی کرتے تھے ، اپنی انگلی منہ میں ڈالتے تھے ، جب آپ چہرہ دھوتے تھے ، تو اپنی ہتھیلیاں کانوں پر بھی لگاتے تھے اور جب آپ اپنے سر کا مسح کرتے تھے ، تو انگلیوں کے ذریعے پیچھے والے حصے کا مسح کرتے تھے ، سر کے ہمرہ آپ کانوں کا بھی مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے ” اصل “ میں
یہ روایت اسی طرح پائی ہے اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے ” اصل “ میں
یہ روایت اسی طرح پائی ہے اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، فَبَدَأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عباد بن تمیم نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا آپ نے پہلے اپنا چہرہ دھویا اور دونوں بازو دھوئے ، پھر آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے سر کیا مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِالْمَاءِ عَلَى لِحْيَتِهِ وَرَجْلَيْهِ . وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
انہی صحابی کے حوالے سے معجم کبیر میں
یہ روایت بھی منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے وضو کرتے ہوئے ، اپنی داڑھی اور پاؤں پر ، پانی کے ذریعے مسح کیا ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت بھی منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے وضو کرتے ہوئے ، اپنی داڑھی اور پاؤں پر ، پانی کے ذریعے مسح کیا ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ نِمْرَانِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُذُوا لِلرَّأْسِ مَاءً جَدِيدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانَ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
نمران بن جاریہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سر کے لیے نئے سرے سے پانی لو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دہثم بن قرآن ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دہثم بن قرآن ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ فَضَّلَ مَاءً حَتَّى يُسِيلَهُ عَلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو کچھ پانی بچا لیتے تھے ، یہاں تک کہ اسے سجدہ کے مقام پر بہاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَوَضَّأُ ، فَغَسَلَ مَوْضِعَ سُجُودِهِ بِالْمَاءِ حَتَّى سَيَّلَهُ عَلَى مَوْضِعِ سُجُودِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے پانی کے ذریعے سجدے کے مقام کو دھوتے تھے ، یہاں تک کہ آپ سجدہ کے مقام پر پانی بہاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ وَيَمْسَحُ بِالْمَاءِ عَلَى رِجْلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
عباد بن تمیم نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، آپ نے پانی کے ذریعے اپنے پاؤں پر مسح کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ قَالَ : نَزَلَ الْقُرْآنُ بِالْمَسْحِ ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْغَسْلِ فَغَسَلْنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ تَابِعِيٌّ فَلَا أَدْرِي سَقَطَ الصَّحَابِيُّ مِنْ خَطَأٍ أَوْ هُوَ هَكَذَا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن بدر بیان کرتے ہیں : قرآن میں مسح کا حکم نازل ہوا ، لیکن اللہ کے رسول نے ہمیں دھونے کا حکم دیا ، تو ہم دھوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبداللہ بن بدر نامی راوی تابعی ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ غلطی کی وجہ سے صحابی کا ذکر نہیں ہوا ، یا
یہ روایت اسی طرح ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبداللہ بن بدر نامی راوی تابعی ہیں ، مجھے نہیں معلوم کہ غلطی کی وجہ سے صحابی کا ذکر نہیں ہوا ، یا
یہ روایت اسی طرح ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : رَجَعَ قَوْلُهُ إِلَى غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ فِي قَوْلِهِ ( وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے پاؤں دھونے کے حکم کے بارے میں اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا ، جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے : ” اور تم اپنے پاؤں ٹخنوں تک “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔