حدیث نمبر: 1176
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الْوُضُوءُ ؟ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوُضُوءٍ ، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَاهِرِ أُذُنَيْهِ مَعَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا الْوُضُوءُ ، فَمَنْ زَادَ فَقَدْ تَعَدَّى وَظَلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! وضو کیسے کیا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھویا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا ، اور تین مرتبہ کلی کی ، اور ناک میں پانی ڈالا ، آپ نے اپنا چہرہ اور دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اور اپنے سر کا مسح کیا ، سر کے ہمراہ آپ نے اپنے دونوں کانوں کے بیرونی حصے کا بھی مسح کیا ، پھر آپ نے دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح وضو ہو گا جو شخص اس سے زیادہ کرے گا ، وہ زیادتی اور ظلم کرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، جسے امام أحمد ، یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ دحیم نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1176
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف