حدیث نمبر: 1185
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ أَنَّهُ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ مِنْكَ خَيْرًا كَثِيرًا ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَلَمْ يُوَقِّتْ ، وَطَهَّرَ قَدَمَيْهِ وَلَمْ يُوَقِّتْ ، وَقَالَ : " يَا ( أَبَا ) كَاهِلٍ ، ضَعِ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ ، وَأَبْقِ فَضْلَ طَهُورِكَ لِأَهْلِكَ ، لَا تُعَطِّشْ أَهْلَكَ، وَلَا تَشْقُقَّ عَلَى خَادِمِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنِ جَمَّازٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اُس وقت وضو کرنے لگے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت سی بھلائی عطا کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اپنے سر کا مسح کیا ، تاہم انہوں نے متعین نہیں کیا ، اور دونوں پاؤں دھوئے اور متعین نہیں کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوکاہل ! تم وضو کے پانی کو اس کے مخصوص مقام پر ڈالو ! اور وضو کا بچ جانے والا پانی اپنے اہل خانہ کے لئے باقی رہنے دو ! تم اپنے اہلخانہ کو پیاسا نہ رکھو ، اور اپنے خادم کو مشقت کا شکار نہ کرو !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1185
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً