حدیث نمبر: 1167
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ( أَبِي ) قُرَادٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجًّا قَالَ : فَرَأَيْتُهُ خَرَجَ لِلْخَلَاءِ ، فَاتَّبَعْتُهُ بِالْأَدَاوَةِ أَوِ الْقَدَحِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ فَجَلَسْتُ لَهُ بِالطَّرِيقِ حَتَّى انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوُضُوءُ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَكَفَأَهَا ، فَصَبَّ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَبَضَ عَلَى يَدِهِ وَاحِدَةً ، ثُمَّ قَبَضَ الْمَاءَ قَبْضًا بِيَدِهِ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ ، فَنَضَحَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ الْأَصْلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن ابوقراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ہیں ، تو میں برتن ، راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ دور تشریف لے جاتے تھے ، میں آپ کے لئے راستے میں بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ وضو کریں گے ؟ یہاں وضو کا پانی موجود ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف تشریف لائے ، آپ نے اپنے ہاتھ پر پانی ڈال کر اُسے دھویا ، پھر آپ نے اپنا ہاتھ پانی میں داخل کیا ، اور چلو میں پانی لے کر اپنے بازو پر ایک مرتبہ بہایا ، پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنی مٹھی میں پانی لیا اور اسے اپنے پاؤں کے اوپری حصے پر ڈالا ، آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے پاؤں کے اوپری حصے پر پانی چھڑکا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اصل “ میں
یہ روایت اسی طرح مذکور ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ قضائے حاجت کرنے لگتے ، تو آپ دور تشریف لے جاتے “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔