مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . باب: وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ - وَكَانَ أَمِيرًا بِعُمَانَ ، فَكَانَ كَخَيْرِ الْأُمَرَاءِ - قَالَ : قَالَ أَبِي : اجْتَمِعُوا فَلْأُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، وَكَيْفَ كَانَ يُصَلِّي ; فَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ صُحْبَتِي إِيَّاكُمْ . قَالَ : فَجَمَعَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ، وَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ ثَلَاثًا - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا ، وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ - يَعْنِي الْيُمْنَى - ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ هَذِهِ الرِّجْلَ - يَعْنِي الْيُسْرَى - ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا مَا أَلَوْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤یزید بن براء بن عازب ، جو ” عمان “ کے گورنر تھے اور بہترین گورنر تھے ، وہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے یہ کہا: تم لوگ اکٹھے ہو جاؤ ! تاکہ میں تم لوگوں کو یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے اور آپ کس طرح نماز ادا کیا کرتے تھے ؟ کیونکہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں اور کتنا عرصہ تمہارے ساتھ رہوں گا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنے بال بچوں کو اکٹھا کیا اور وضو کا پانی منگوایا ، انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، اپنا دایاں بازو تین مرتبہ دھویا ، اپنا یہ والا تین مرتبہ دھویا ، اُن کی مراد بایاں بازو تھا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا اور کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا ، پھر انہوں نے یہ یعنی دایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا ، پھر یہ یعنی بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے فرمایا : میں نے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں تمہیں یہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔