مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . باب: وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 1186
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَوَضَّأَ اسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ،وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي فَمِهِ ، وَكَانَ يَبْلُغُ بِرَاحَتَيْهِ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ مَسَحَ بِإِصْبَعَيْهِ مَا أَدْبَرَ وَأُذُنَيْهِ مَعَ رَأْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے ، تو تین مرتبہ ناک صاف کرتے تھے ، کلی کرتے تھے ، اپنی انگلی منہ میں ڈالتے تھے ، جب آپ چہرہ دھوتے تھے ، تو اپنی ہتھیلیاں کانوں پر بھی لگاتے تھے اور جب آپ اپنے سر کا مسح کرتے تھے ، تو انگلیوں کے ذریعے پیچھے والے حصے کا مسح کرتے تھے ، سر کے ہمرہ آپ کانوں کا بھی مسح کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، میں نے ” اصل “ میں
یہ روایت اسی طرح پائی ہے اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے اور وہ متروک ہے ۔