حدیث نمبر: 1172
وَعَنْ رَاشِدِ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِالزَّاوِيَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَخْبِرْنِي عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ كَانَ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ كُنْتَ تُوَضِّئُهُ . قَالَ : نَعَمْ ، فَدَعَا بِوُضُوءٍ ، فَأُتِيَ بِطَسْتٍ وَبِقَدَحٍ نُحِتَ ( يَقُولُ ) كَمَا نُحِتَ ( فِي أَرْضِهِ ) فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، فَأَنْعَمَ غُسْلَ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً غَيْرَ أَنَّهُ أَمَرَّهَا عَلَى أُذُنَيْهِ ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِي الْمَاءِ . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

راشد ابومحمد حمانی بیان کرتے ہیں : میں نے ” زاویہ “ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، تو میں نے اُن سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسا ہوتا تھا ؟ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ اس طرح وضو کر کے دکھاتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، تو ایک طشت اور ایک پیالہ لایا گیا جو پتھر سے بنا ہے ، وہ اُن کے سامنے رکھا گیا ، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، اور پھر دونوں ہاتھ اچھی طرح دھوئے ، پھر انہوں نے تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر اپنا دایاں بازو ( آستین سے ) نکال کر اسے تین مرتبہ دھویا ، پھر بایاں بازو تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا ، البتہ انہوں نے اپنے کانوں پر بھی ہاتھ پھیرا اور ان پر مسح کیا ، پھر انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی میں داخل کیں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1172
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔