حدیث نمبر: 1170
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ( ثَلَاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ) ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سُمَيْعٍ عَنْهُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَسُمَيْعٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، وَلَا ابْنَ مَنْ هُوَ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ اعْتَمَدَ فِي تَوْثِيقِهِ عَلَى غَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے ، تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سمیع نامی راوی کے حوالے سے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، سمیع نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے اور کس کا بیٹا ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) بظاہر یہ لگتا ہے کہ انہوں نے اسے ” ثقہ “ قرار دینے میں کسی اور پر اعتماد کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔