حدیث نمبر: 1164
وَعَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَطَهَّرَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ ضَحِكَ ، قَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ قُلْنَا : مَا أَضْحَكَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : ضَحِكْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا بِوَضُوءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ كَمَا ضَحِكْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ " قُلْنَا : مَا أَضْحَكَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَضْحَكَنِي أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ - حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَ بِوَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ ، فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ كَانَ كَذَلِكَ ، فَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے وضو کا پانی منگوایا ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازو تین مرتبہ دھوئے ، اپنے سر پر مسح کیا ، اپنے پاؤں دھوئے اور پھر ہنس پڑے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ دریافت نہیں کرو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ کیوں ہنسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے ہنسنے کی وجہ یہ ہے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کے قریب وضو کا پانی منگوایا ، پھر آپ نے اُسی طرح وضو کیا ، جس طرح میں نے وضو کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ہنس پڑے ، جس طرح میں ہنس پڑا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات پر ہنسا ہوں کہ جب کوئی بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اُس کا ہر وہ گناہ ختم کر دیتا ہے ، جس کا ارتکاب اس نے اپنے چہرے کے ذریعے کیا ہو ، جب وہ بندہ اپنے بازو دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے ، تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح