مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . باب: وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً فَتِلْكَ وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ الَّتِي لَا بُدَّ مِنْهَا ، وَمَنْ تَوَضَّأَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا فَذَاكَ وُضُوئِي وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلِابْنِ عُمَرَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ مُطَوَّلٌ فِي هَذَا ، وَفِي كُلٍّ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ مَا لَيْسَ فِي الْآخَرِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ایک ، ایک مرتبہ وضو کرتا ہے ( یعنی وضو کرتے ہوئے ، ہر عضو کو ایک مرتبہ دھوتا ہے ) تو یہ وضو کا ایسا طریقہ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ، اور جو شخص دو مرتبہ وضو کرتا ہے ، تو اسے اجر کے دو کفل ملیں گے ، اور جو شخص تین مرتبہ وضو کرتا ہے ، تو یہ میرا اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کرام کا وضو کا طریقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید عمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اسے ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، اور وہ اس سے طویل حدیث ہے ، تاہم دونوں روایات میں کچھ چیزیں ایسی ہیں ، جو دوسری میں نہیں ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔