مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . باب: وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 1181
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمَضْمِضْ ثَلَاثًا ; فَإِنَّ الْخَطَايَا تَخْرُجُ مِنْ وَجْهِهِ ، وَيَغْسِلْ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَيَمْسَحْ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يُدْخِلْ يَدَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ يُفْرِغْ عَلَى رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُوسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص وضو کرے تو اُسے تین مرتبہ کلی کرنی چاہیے ، کیونکہ ( اس کی وجہ سے ) اُس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں ، اور تین مرتبہ دونوں بازو دھونے چاہییں ، اور تین مرتبہ سر پر مسح کرنا چاہیے ، پھر اُسے اپنے ہاتھ کان میں داخل کرنے چاہیں اور پھر اپنے پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوموسیٰ حناط ہے اور وہ متروک ہے ۔