مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ . باب: وضو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانٍ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِوَضُوءٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأَمَرَّ بِيَدَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا عَلَى لِحْيَتِهِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : تَوَضَّأْتُ لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ رَكَعْتُ رَكْعَتَيْنِ كَمَا رَأَيْتُهُ رَكَعَ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ : " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ - غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ صَلَاتِهِ بِالْأَمْسِ " . ¤ قُلْتُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤حمران بن ابان بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ، وہ اس وقت مسجد کے دروازے کے پاس موجود تھے ، انہوں نے دونوں ہاتھ دھوئے ، کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے دونوں بازو کہنیوں تک تین مرتبہ دھوئے ، پھر انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا ، اور اپنے ہاتھ کان کے بیرونی حصے پر پھیرے ، پھر انہیں اپنی داڑھی پر پھیرا ، پھر انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھر انہوں نے اُٹھ کر دو رکعت ادا کیں اور پھر یہ فرمایا : میں نے تمہارے سامنے اسی طرح وضو کیا ہے ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ، پھر میں نے اسی طرح دو رکعات ادا کی ہیں ، جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو رکعات ادا کر کے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس طرح وضو کرے ، جس طرح میں نے وضو کیا ہے اور پھر دو رکعات یوں ادا کرے کہ اس دوران اپنے خیالوں میں گم نہ ہو جائے ، تو اس شخص کے ان دو رکعات ، اور اس سے پچھلے دن کی نماز کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔