حدیث نمبر: 1195
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ : أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالُوا : بَلَى . فَدَعَا بِمَاءٍ ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، ( وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ) ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، ( وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ ) قَالَ : وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ . ¤ ( ثُمَّ قَالَ : قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكَمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ _ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ ) رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلَانِ مَجْهُولَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کو یہ نہ دکھاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے پانی منگوایا اور تین مرتبہ کلی کی ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے ، سر کا مسح کیا ، اور دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ بات جان لو ! دونوں کان سر کا حصہ ہیں ۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہارے سامنے اہتمام کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ بیان کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس میں دو مجہول افراد ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس میں دو مجہول افراد ہیں ۔
حدیث نمبر: 1196
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دونوں کان ، سر کا حصہ ہیں ( یعنی سر کی طرح ان کا بھی مسح کیا جائے گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 1197
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ بْنِ مُفَضَّلٍ الْمَدَنِيِّ قَالَ : أَرَانِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْوُضُوءَ ، أَخَذَ رِكْوَةً فَوَضَعَهَا عَنْ يَسَارِهِ ، وَصَبَّ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدَارَ الرِّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلَاثًا ، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا لِصِمَاخِهِ فَمَسَحَ صِمَاخَهُ ، فَقُلْتُ : قَدْ مَسَحْتَ أُذُنَيْكَ ! فَقَالَ : يَا غُلَامُ ، إِنَّهُمَا مِنَ الرَّأْسِ ، لَيْسَ هُمَا مِنَ الْوَجْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا غُلَامُ ، هَلْ رَأَيْتَ ؟ وَهَلْ فَهِمْتَ ؟ ( أَوْ أُعِيدُ عَلَيْكَ ؟ فَقُلْتُ : قَدْ كَفَانِي وَقَدْ فَهِمْتُ ) قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَعُمَرُ بْنُ أَبَانَ لَا يُدْرَى مَنْ هُوَ . قُلْتُ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن ابان بن مفضل مدنی بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے وضو کر کے دکھایا ، اُنہوں نے پانی کا برتن لے کر اپنے بائیں طرف رکھا اور پھر اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے برتن گھما کر دائیں طرف رکھا اور اسے تین مرتبہ دھویا ، پھر انہوں نے اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا ، کانوں کے لیے انہوں نے نئے سرے سے پانی لے کر کان کا مسح کیا ، تو میں نے کہا: آپ نے تو کان کا بھی مسح کر لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اے لڑکے ! یہ دونوں ( کان ) سر کا حصہ ہیں ، چہرے کا حصہ نہیں ہیں ( یعنی سر کی طرح ان کا بھی مسح کیا جائے گا ، انہیں چہرے کے ساتھ دھویا نہیں جائے گا ) پھر انہوں نے دریافت کیا ہے : اے لڑکے ! کیا تم نے دیکھ لیا ہے ؟ کیا تم نے سمجھ لیا ہے ؟ یا میں تمہارے سامنے دُہرا دوں ؟ تو میں نے کہا: میری کفایت ہو گئی ہے ، اور میں نے سمجھ لیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : عمر بن ابان نامی راوی کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : عمر بن ابان نامی راوی کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ یہ کون ہے ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔